The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں سیاہ فام کی دردناک موت پولیس افسران کو لے ڈوبی

مینیسوٹا: امریکی شہر مینی پولس میں ایک سیاہ فام امریکی کی موت 4 پولیس افسران کو لے ڈوبی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر مینی پولس میں ایک سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کی موت پر 4 پولیس افسران کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔

پولیس افسران کے خلاف یہ کارروائی ایک ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد کی گئی، جس میں ایک سفید فام پولیس اہل کار کو جارج فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا دبا کر رکھے دیکھا گیا، جب کہ سیاہ فام شخص اس وقت غیر مسلح تھا۔

یہ افسوس ناک واقعہ پیر کے روز پیش آیا تھا، پولیس افسر نے جارج فلائیڈ کے ہاتھ پیچھے کر کے ہتھ کھڑی لگا دی تھی اور اسے زمین پر منہ کے بل گرا کر اس کی گردن پر گھٹنا رکھ کر دباتا رہا، اس دوران سیاہ فام شخص تکلیف کے عالم میں اسے اٹھنے کے لیے کہتا رہا کہ وہ سانس نہیں لے پا رہا۔

جارج فلائیڈ اور ان کی فیملی

یہ ویڈیو کسی راہ گیر نے بنائی تھی، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، اس میں سیاہ فام شخص کی آواز سنائی دیتی ہے، وہ بار بار درخواست کرتا ہے: پلیز مین، میں سانس نہیں لے پا رہا، میں سانس نہیں لے پا رہا۔ چند ہی منٹ کے بعد جارج فلائیڈ کی آنکھیں بند ہو گئیں اور آواز بھی خاموش ہو گئی۔

تاہم پولیس افسر نے اپنا گھٹنا اس کی گردن سے نہیں ہٹایا، راہ گیر بھی چلاتے رہے کہ وہ حرکت نہیں کر رہا ہے، اسے مدد کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ایک اور پولیس افسر پاس کھڑے ہو کر لوگوں کو دیکھتا رہا۔ بعد ازاں، جارج فلائیڈ کو اسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جاں بر نہ ہو سکا اور مر گیا۔ مینی پولس پولیس چیف میداریا ارادوندو نے ایک نیوز کانفرنس میں پولیس اہل کاروں کے نام نہ بتاتے ہوئے کہا کہ مذکورہ افسران کو فارغ کر دیا گیا ہے۔

ریاست کی بیورو آف کریمنل اپریہنشن اور ایف بی آئی نے الگ الگ اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جارج فلائیڈ کی فیملی کے وکیل بین کرمپ کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا وہ طاقت کا نہایت غلط، بہت زیادہ اور غیر انسانی استعمال تھا، جس نے ایک انسانی جان لے لی، پولیس اسے قید کر کے پوچھ گچھ کر سکتی تھی۔

وکیل نے مینی پولس پولیس ڈپارٹمنٹ سے سوال کیا کہ آخر کتنی سفید و سیاہ فام جانیں مزید درکار ہوں گی اس نسلی امتیاز اور سیاہ فاموں کی ناقدری کے خاتمے کے لیے۔ دریں اثنا، مینی پولس کے میئر جیکب فرے نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس افسران کو فارغ کرنے کا فیصلہ ہمارے شہر کے لیے بالکل درست ہے، ہم اپنی اقدار بیان کر چکے ہیں، اب ہمیں ان کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں