site
stats
لائف اسٹائل

ویڈیو: قدیم کراچی کی جدید ٹرام سروس

کیا آپ نے کبھی اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ کراچی کی صاف ستھری سڑکوں پر کبھی ٹرام بھی چلا کرتی تھی‘ آئیے آج ہم آپ کو ملواتے قدیم کراچی کی اس جدید سواری سے جو اب ناپید ہوچکی ہے۔

کراچی میں سب سے پہلی ٹرام سنہ 1885 میں چلنا شروع ہوئی جو کہ بھاپ سے چلتی تھی تاہم ایک سال بعد ہی اس کی جگہ ہارس ٹرام نے لے لی جسے گھوڑے کھینچا کرتے تھے۔

سنہ 1905 میں پہلی بار برطانوی حکومت نے ایسٹ انڈیا ٹرام ویز کمپنی میں سرمایہ کرتے ہوئے پیٹرول سے چلنے والی ٹرام متعارف کرائی جس میں پہلی ٹرام کا نمبر ’94‘ تھا جبکہ 1909 تک گھوڑوں والی ٹرام کو مکمل طور پر پیٹرو ٹرام سے تبدیل کردیا گیا اور اس مقصد کے لیے نئے ٹریک بھی تعمیر کیے گئے۔

یہ ٹرام ڈاکس سے چلا کرتی اور کراچی کے اس وقت کے وسط میں واقع ایمپریس مارکٹ تک آیا کرتی تھی وقت گزرنے کے ساتھ اس میں مزید روٹس شامل کیے گئے اور ٹریک کی لمبائی کل 10 میل تک چلی گئی تھی تاہم اپنے آخری دنوں میں یہ محض بولٹن مارکیٹ سے ایمپریس مارکیٹ تک آپریٹ کررہی تھی۔

سنہ 1945 میں ٹرام میں ڈیزل انجن متعارف کرایا گیا اور تقسیم کے بعد جب سنہ 1949 میں محمد علی کمپنی نے اس سروس کو خریدا تو تمام تر انجن ڈیزل کردیے گئے‘ کمپنی کے مالک شیخ محمد علی تھے۔

امریکی نیوی سے تعلق رکھنے والے کیپٹن رحیم اللہ جب کراچی آئے تو ڈاکس پر جہاز سے اترنے کے بعد جس پہلی شے سے ان کا واستہ پڑا وہ ٹرام تھی اور انہوں نے ٹرام کی کئی ویڈیوز بنائی جن کی مدد سے یہ ڈاکیومنٹری بنائی گئی ہے۔

اس ٹرام سروس کی ہر بس 28 فیٹ لمبی اور آٹھد فٹ چوڑی تھی اوراس میں 48 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی جبکہ ڈرائیور کے بالکل پیچھے والی نشستیں خواتین کے لیے مخصوص تھیں۔

کراچی کا موسم عموماً ہوادار رہتا ہے اس لیے آپ کو زیادہ تر پرانی تصاویر میں ٹرام کی کھڑکیاں کھلی نظر آئیں گی تاہم جب موسم خراب ہوتا تھا تو کنڈیکٹر ان کھڑکیوں کے شٹر بند کردیا کرتا تھا۔

ٹرام کی ٹاپ اسپیڈ 25 میل فی گھنٹہ تھی اور یہی اس کے خاتمے کا سبب بھی بنی کہ سنہ 1969 میں حکومت نے 14 ٹرینوں پر مشتمل کراچی سرکلر ریلوے متعارف کرادی جو کہ پرانی ٹرام سے کہیں زیادہ تیز رفتارتھی اوراس کی سروس کی دائرہ بے حد وسیع تھا حالانکہ اب وہ سرکلر ریلوے بھی ماضی کا حصہ بن چکی ہے تاہم سندھ حکومت ایک بار پھر اس کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔ ٹرام کو دوسرا سب سے شدید نقصان پرائیوٹ بس کمپنیوں نے پہنچایا جن کے روٹ اور رفتارزیادہ تھی۔

سنہ 1985 میں اسٹیم کے چُھک چُھک کرتے انجنوں سے شروع ہونے والا ٹرام ویز کمپنی کا یہ سفر بالاخر سنہ 1972 میں اختتام پذیر ہوا اور آج کراچی کے شاندار ماضی میں اپنا حصہ ڈالنے والی ٹرامیں اب محض تاریخ بن کررہ گئیں ہیں اور کراچی کی ٹرانسپورٹ رکشوں اور چنگ چی کے رحم و کرم پر ہے۔ امید ہے کہ وفاقی حکومت کے گرین لائن میٹرو منصوبے کی تکمیل ‘ اور سندھ حکومت کے سرکلر ریلوے کے احیا سے کراچی ایک بار پھر جدید ترین ٹرانسپورٹ رکھنے والے شہروں میں شمار ہوسکتا ہے۔


ویڈیو دیکھئے



اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top