site
stats
پاکستان

خواجہ سراؤں کو الیکشن لڑنے اور سرکاری عہدہ رکھنے کی اجازت، بل منظور

اسلام آباد: سینیٹ کی فنگشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے خوجہ سراؤں کے حقوق اور تحفظ کے قانون کی متفقہ طور پر منظوری دے دی جس کے تحت اب خواجہ سراؤں کو الیکشن لڑنے اور سرکاری عہدہ رکھنے کے اختیار بھی حاصل ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی فنگشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کا قانون پیش کیا گیا جسے متفقہ طور پر تمام اراکین نے منظور کرلیا۔

قانون کی منظوری کے بعد اب خواجہ سراؤں کو الیکشن لڑنے، سرکاری عہدہ رکھنے اور وراثت کا حق حاصل ہوگا جبکہ انہیں اگر کوئی شخص بھیک مانگنے پر مجبور کرے گا تو اُسے قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔

قانون کے مطابق خواجہ سراؤں کو قومی ، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ اگر کوئی خواجہ سرا الیکشن لڑنا چاہے گا تو اسے بھی مکمل حق فراہم کیا جائے گا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سے منظور ہونے والے قانون کے تحت خواجہ سرا  پراپرٹی کی خریدو فروخت، کرایہ اور لیز پر مکان یا دکان حاصل کرسکیں گے ۔

مزید پڑھیں: پشاور: خواجہ سراؤں میں صحت انصاف کارڈز کی تقسیم

قانون کے مطابق خواجہ سراؤں کو اپنی جنسی شناخت کا بھی مکمل حق حاصل ہوگا جبکہ انہیں 18 سال کی عمر کے بعد شناختی کارڈ، پاسپورٹ ڈارئیولنگ لائسنس بھی فراہم کیا جائے گا جس میں وہ اپنی مرضی سے مرد یا عورت کا خانہ پُر کریں گے علاوہ ازیں جنہیں نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ جاری کیے جاچکے وہ بھی اپنی شناخت تبدیل کرسکیں گے۔

قانون کے تحت خواجہ سراؤں کے ساتھ وراثت میں بھی کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں برتا جاسکے گا، جس کا تعین شناختی کارڈ میں ظاہر کی گئی جنس کے مطابق ہو گا مرد کا وراثت میں حق آدمی جبکہ فی میل خواجہ سرا کا وراثت میں حق خاتون کے برابر ہو گا علاوہ ازیں مبہم خصوصیات کے حامل ہونے کی صورت میں اٹھارہ برس کی عمر کو پہنچنے پر میل یا فی میل خصوصیات کو دیکھتے ہوئے وراثت کا تعین ہو گا۔

قانون میں حکومت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ خواجہ سراؤں کی حفاظتی اور بحالی مراکز کے ساتھ صحت کی سہولیات بھی فراہم کے گی اور اُن کے لیے مکمل تعلیم کا اہتمام بھی کرے گی جبکہ جیلوں میں قید خواجہ سراؤں کے لیے علیحدہ بیرکوں اور حوالات کا قیام عمل میں لایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: علامہ اقبال یونیورسٹی : خواجہ سراؤں کیلئے مفت تعلیم کا آغاز

سینیٹ کی منظوری کے بعد اب تعلیمی اداروں، دفاتر ، تجارتی مراکز ، صحت اور سفری سہولیات میں خواجہ سراؤں کے ساتھ امتیازی سلوک کی ممانعت ہوگی جبکہ انہیں ہراساں کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، قانون میں حکومت کو یہ بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ تمام خواجہ سراؤں کے لیے مفت بنیادی تعلیم اور ملازمت کے مواقع بھی فراہم کرے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top