کراچی (22 اکتوبر 2025): ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا کو اہمیت نہیں دی جاتی لیکن حنا گل نے اپنے فن سے دنیا میں اپنی محنت کو منوایا ہے۔
خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا وہ حصہ ہیں، جس کو عموماً کوئی طبقہ اپنے درمیان جگہ دینا نہیں چاہتا۔ اگرچہ حکومتوں نے چند برسوں میں ان کی فلاح وبہبود کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، لیکن عوامی سطح پر انہیں مشکلات کا ہی سامنا ہے۔
تاہم اے آر وائی نیوز کی نمائندہ روبینہ علوی ایک ایسی خواجہ سرا حنا گل سے ملوا رہی ہیں، جنہوں نے ہاتھوں کے فن سے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی اپنے محنت کو منوایا ہے اور بتا دیا کہ محنت سے عظمت کیسے حاصل ہوتی ہے۔
حنا گل جو اپنے ہاتھوں سے خوبصورت شو پیش بنانے کے علاوہ چھوٹی چھوٹی گڑیوں کے ملبوسات نہ صرف سیتی ہیں بلکہ انہیں سجا کر کئی جیتے جاگتے روپ بھی دیتی ہیں۔
اس حوالے سے حنا گل کا کہنا ہے کہ یہ میرا شروع سے شوق تھا کہ گڑیوں کو سجاؤں، انہیں اچھے اچھے ڈریس پہناؤں اور انہیں دلہن بناؤں۔ میں ایک دن میں پانچ سے چھ گڑیاں تیار کر لیتی ہیں۔
حنا نے بتایا کہ ان کے فن پارے دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ میں گڑیوں کے لیے چھوٹی چھوٹی چوڑیاں کہاں سے لاتی ہوں اور اتنے چھوٹے ڈریس کیسے سیتی ہوں۔
حنا گل نے اپنے اس کام کو گھر یا مارکیٹ تک محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف نمائشوں میں اپنے کام کو پیش کیا اور پذیرائی بھی حاصل کی۔
وہ بتاتی ہیں کہ نہ صرف ملک میں مختلف شہروں میں اسٹال لگاتی ہیں بلکہ دعوت ملنے پر بیرون ملک بھی جاتی ہوں اور لوگ مجھ سے اتنی محنت کرتے ہیں کہ اسٹال کے پیسے بھی نہیں لیتے۔
حنا گل کا فن ثابت کرتا ہے کہ قدرت نے کسی انسان کو بے تخلیق نہیں کیا۔ کوئی نہ کوئی خصوصیت اور ہنر ہر ایک میں موجود ہوتا ہے بس اس کو کھوجنے کا فن آنا چاہیے۔
روبینہ علوی اے آر وائی نیوز کراچی سے وابستہ ہیں


