The news is by your side.

Advertisement

خواجہ سرا بھی کاغذاتِ نامزدگی لینے پہنچ گئے

خواجہ سرا انتخابی عمل کا حصہ ہیں، انتخابی عمل سے الگ نہیں ہونے دیا جائے گا، الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اعلان

کراچی: خواجہ سرا بھی صوبائی الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر پہنچ گئے، وہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کے حصول کے لیے دفتر گئے۔

دوسری طرف اسلام آباد میں الیکشن کمیشن نے اعلان کردیا ہے کہ خواجہ سرا بھی انتخابی عمل کا حصہ ہیں، الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کو انتخابی عمل سے الگ نہیں ہونے دیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے انتخابات میں حصہ لینے کے سلسلے میں کاغذاتِ نامزدگی کے حوالے سے خواجہ سراؤں کی شکایت بھی دور کردی ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اگرچہ شناختی کارڈ سے بھی خواجہ سراؤں کی جنس کا پتا چلتا ہے تاہم وہ کاغذاتِ نامزدگی میں لکھ کر اپنی جنس کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اقدام کے بعد خواجہ سراؤں کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی، فارم میں جنس کی وضاحت کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کی طرف سے ریٹرننگ افسران کو بھی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

اسے بھی ملاحظہ کریں:  خواجہ سراؤں کو الیکشن لڑنے اور سرکاری عہدہ رکھنے کی اجازت، بل منظور

خواجہ سراؤں نے الیکشن کمیشن کے اقدام کو سراہتے ہوئے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں ہمارا حق دیا ہے، ہم بھی انتخابات میں حصہ لینے کا حق رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خواجہ سراؤں کے لیے اسکول قائم

واضح رہے کہ رواں سال فروری میں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے خوجہ سراؤں کے حقوق اور تحفظ کے قانون کی متفقہ طور پر منظوری دی تھی جس کے تحت خواجہ سراؤں کو الیکشن لڑنے اور سرکاری عہدہ رکھنے کا اختیار مل چکا ہے۔

یہ بھی دیکھیں: پاکستان میں پہلی بار خواجہ سرا نیوزکاسٹر متعارف

خیال رہے کہ فروری ہی کے مہینے میں خیبر پختونخوا کے خواجہ سراؤں نے بھی ووٹ کا حق مانگنے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف رٹ پٹشن دائر کردی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کو پابند بنایا جائے کہ وہ 2018 کے ہونے والے عام انتخابات میں خواجہ سراؤں کو بطور ووٹر اور امیدوار حصہ لینے کا حق دے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیاپر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں