The news is by your side.

Advertisement

روسی ویکسین کی قیمت 119 گنا زیادہ کیوں مقرر کی گئی؟ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد: ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزارت قومی صحت کے نام دوسرا مراسلہ لکھ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے وزارت قومی صحت کو دوسرا مراسلہ لکھ بھیجا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نجی سیکٹر کے لیے روسی کرونا ویکسین کی قیمت کے تعین پر سوالات اٹھائے گئے تھے، لیکن وزارت صحت نے اس معاملے پر تاحال وضاحت نہیں دی۔

بین الاقوامی ادارے نے مراسلے میں کہا ہے کہ ڈریپ نجی سیکٹر کے لیے ویکسین قیمت کے تعین پر سچ نہیں بول رہا، ڈریپ نے کرونا ویکسین کی قیمت 119 گنا زیادہ مقرر کی ہے، جس پر شکایات موصول ہو رہی ہیں، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل قانون کی حکمرانی، انسداد بدعنوانی کے لیے کام کر رہی ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے وزارت صحت کو لکھے گئے خط کے ساتھ بھارتی اخبار کا بھی حوالہ دیا ہے۔ ادارے نے جو پہلا مراسلہ بھیجا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کی جانب سے اسپوتنک V ویکسین کی منظوری پر سوالات پیدا ہوئے ہیں، ٍحکومت نے ابتدائی طور پر بغیر قیمت تعین ویکسین درآمد کی اجازت دے دی تھی۔

وفاقی کابینہ نے 2 کرونا ویکسینز کی قیمت فروخت کی منظوری دے دی

مراسلے کے متن میں کہا گیا تھا کہ روس نے 21 جنوری کو ویکسین کی فی ڈوز قیمت 10 ڈالر سے کم مقرر کی تھی، جب کہ ڈریپ نے 22 جنوری کو روسی ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری دے دی۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کہا کہ بھارتی حکومت نے روسی ویکسین کی فی خوراک قیمت 734 روپے مقرر کی ہے، لیکن ڈریپ نے قیمت کے تعین سے قبل ویکسین کی عالمی قیمت معلوم ہی نہیں کی، اس فیصلے سے قبل ویکسین کی عالمی قیمت معلوم کرنا ڈریپ کی ذمہ داری تھی، ڈریپ کو پڑوسی ممالک میں روسی ویکسین کی قیمت معلوم کرنا چاہیے تھی۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کہا کہ ڈریپ نے روسی ویکسین کی قیمت کے تعین میں ذمہ داری سے انحراف کیا، ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018 میں ہارڈ شپ کیسز کی واضح تعریف موجود ہے، ڈریپ نے نجی سیکٹر کے لیے روسی ویکسین کی قیمت زیادہ مقرر کی ہے۔

ادارے کا کہنا تھا کہ روسی ویکسین کی فی ڈوز قیمت 1925 روپے ہونی چاہیے، اور 2 ڈوزز 3850 روپے ہونی چاہیے، لیکن ڈریپ نے نجی سیکٹر کے لیے ویکسین کی قیمت 119 گنا زیادہ مقرر کی۔

واضح رہے کہ ڈریپ نے روسی ویکسین اسپوتنک V کی 2 خوراک پر مشتمل پیک کی قیمت 8 ہزار 449 روپے، جب کہ 4 خوراک پر مشتمل پیک کی قیمت 16 ہزار 560 روپے مقرر کی ہے، وفاقی کابینہ نے بھی 21 مارچ کو ان قیمتوں کی منظوری دے دی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں