The news is by your side.

Advertisement

سفری پابندیاں: پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری کی امید!

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان پر عائد سفری پابندیوں سے متعلق بات چیت کررہے ہیں۔

اپنے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ برطانیہ اور یو اے ای سے ہم پر عائد پابندیوں پر نظرثانی کے لیے گفتگو جاری ہے، ہم نے کہا ہمارے ہاں بھارت جیسی بھیانک صورت حال نہیں، کورونا سے متعلقہ فیصلے سیاسی نہیں، سائنسی بنیادوں پر ہونے چاہییں، توقع ہے آئندہ اجلاس میں پابندیوں کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے گی۔

افغان صورت حال سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی کے الزامات کے باوجود ہمارا رویہ مثبت ہے، ہم افغانستان میں بہتری اور وہاں کے عوام امن چاہتے ہیں، افغان امن عمل میں ہمارا کردار مثبت رہا ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ آج بھی دوحہ میں امن مذاکرات میں پاکستانی وفد شامل ہے، پاکستان کا مثبت کردار اور قیام امن کی کوششیں ڈھکی چھپی نہیں، دنیا افغانستان میں امن کے لیے مصالحانہ کوششوں کو سراہ رہی ہے، افغانستان کے حالات کی ذمے داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش ہے، افغانستان سے باہر ایک طبقہ اسپائلر کا کردار ادا کر رہا ہے، یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان نے ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا رکھی ہے، ہم عالمی اتفاق رائے کا حصہ اور مقاصد یکساں ہیں۔

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ خطے میں کچھ امن مخالف قوتوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، دوحہ میں ہمارا وفد آج بھی موجود اور امن کیلئے کوششیں جاری رہیں گی، ہمارا افغانستان میں کوئی فیورٹ نہیں، افغانستان کا اگر فوجی حل ہوتا تو وہ نکل چکا ہوتا، ہم افغانستان کے تمام ہمسائیوں سے رابطے میں ہیں، ہم مل کر ایک مربوط حکمت عملی بنانا چاہتے ہیں، خطے کے ممالک کومل کر مشترکہ کاوشیں بروئے کارلاناہوں گی۔

اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں تشدد میں اضافے پر ہمیں تشویش ہے، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بزور بازو افغانستان میں مسلط ہو، ہم افغانستان کےمعاملات میں مداخلت نہیں چاہتے، اچھے ہمسائے کا کردار ادا کرنے کو تیار تھے اور ہیں، باڈر فینسنگ ناپسندیدہ عناصر کی نقل و حرکت روکنے کے لیے کی، بارڈر کی نقل و حرکت ریگولیٹ کرنا چاہتے ہیں، 25 سے 30 ہزارلوگ روز سرحد عبور کرتے ہیں، تشویش ہے وہ عناصر داخل نہ ہوں جو حالات خراب کریں، ہمیں اس کیلئے درمیانہ راستہ اختیار کرنا ہوگا، سلامتی کونسل اجلاس میں بھارت کا رویہ افسوسناک تھا۔

وزیر نے شکوہ کیا کہ بھارتی رویے پر عالمی برادری اور سلامتی کونسل کونوٹس لیناچاہیے تھا، ہم سلامتی کونسل میں نقطہ نظر پیش کرنا چاہتے تھے، پاکستان نے اس ضمن میں بھاری قیمت ادا کی ہے، افغانستان میں حالات خراب ہوئے تو سب سے پہلے پاکستان متاثر ہوگا، بھارت کو ایک ماہ کیلئے سلامتی کونسل کی عارضی صدارت سونپی گئی، بھارت نے بدقسمتی سےذمہ دارانہ رویہ نہیں اپنایا، بھارت کا رویہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانےکے اور جیسا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں