The news is by your side.

Advertisement

اسمگل شدہ موبائل فونز کی روک تھام، نئی پالیسی تشکیل

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے اسمگل شدہ موبائل فونز کی روک تھام کے لیے نئی پالیسی تشکیل دے دی۔

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کے مطابق وفاقی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یکم دسمبر کے بعد بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کیے فروخت کیے جانے والے موبائل فون پی ٹی اے کی جانب سے تیس دن کے وقفے سے بند کردئیے جائیں گے، یکم دسمبر سے پہلے فروخت کیے گئے فون پر اسکا اطلاق نہیں ہوگا اور ان کو کسی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوگی۔

حماد اظہر نے کہا کہ بیرون ملک سے ذاتی استعمال کے لیے فون لانے والے افراد ہر سال ایک فون بغیر ڈیوٹی کے لاسکیں گے اور مجموعی طور پر ایک سال میں پانچ فون لانے کی اجازت ہوگی تاہم اگر پاکستان میں قیام 30 دن سے زیادہ کا ہو تو ان چار فونز پر کسٹم ڈیوٹی ادا کرنی ہوگی۔

وزیر مملکت برائے ریونیو کے مطابق وفاقی کابینہ نے اس بات کی منظوری دے دی ہے کہ نئے اور استعمال شدہ موبائل فون کی درآمد پر پالیسی میں نرمی کی جائے، استعمال شدہ فون کی درآمد پر پابندی اُٹھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، اگر وہ ماڈل پی ٹی اے کے منظور شدہ ہوں اور ان پر کسٹم ڈیوٹی ادا کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: اسمگل شدہ موبائل فونز 31 دسمبر کے بعد بلاک کردیے جائیں گے، فواد چوہدری

قبل ازیں پی ٹی اے کی جانب سے صارفین کو متنبہ کیا جاچکا ہے کہ وہ نیا موبائل فون خریدنے کے بعد اس کی رجسٹریشن ضرور کروائیں بصورت دیگر اسے بلاک کردیا جائے گا۔

یاد رہے کہ دو روز قبل یعنی 23 نومبر کو حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 31 دسمبر کے بعد اسمگل شدہ موبائل فون بلاک کردئیے جائیں گے جبکہ فواد چوہدری نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں پہلے سے موجود موبائل فونز بلاک نہیں کیے جائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں