حادثے کے زخمیوں کے فوری علاج کا قانون سندھ اسمبلی میں پیش -
The news is by your side.

Advertisement

حادثے کے زخمیوں کے فوری علاج کا قانون سندھ اسمبلی میں پیش

کراچی: زخمیوں کے لازمی اور فوری علاج کا قانون سندھ اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔ بل کے مسودے کو ڈیفنس میں فائرنگ سے جاں بحق بچی امل عمر کے نام سے موسوم کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ میں زخمیوں کے علاج سے متعلق ایکٹ کا مسودہ تیار کرلیا گیا۔ مجوزہ قانون میں کہا گیا ہے کہ تمام نجی و سرکاری اسپتالوں کے لیے زخمی کا فوری علاج لازم ہوگا، کوئی نجی یا سرکاری اسپتال زخمی کے علاج سے انکار نہیں کر سکے گا۔

مسودے کے مطابق ہر اسپتال میں تمام سہولتوں سے آراستہ 2 ایمبولینسوں کا ہونا لازم ہوگا، ایمبولینس میں پیرا میڈیکل اسٹاف موجود ہوگا۔ قبل از علاج زخمی یا اہل خانہ سے پیسے طلب کرنا قابل سزا جرم ہوگا۔ کوئی ڈاکٹر یا اسپتال زخمی کے علاج کے لیے میڈیکل لیگل کا تقاضہ نہیں کرے گا۔

مسودے میں کہا گیا ہے کہ نجی اسپتال میں زخمی کے ہنگامی علاج کے اخراجات حکومت ادا کرے گی، دوران علاج پولیس یا کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ زخمی سے تفتیش نہیں کرے گا۔ کسی بھی صورت زخمی کو تحویل میں لیا جائےگا اور نہ تھانے لے جایا جائے گا، زخمی کے علاج کے لیے اہل خانہ کی تحریری توثیق کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔

مجوزہ قانون میں کہا گیا ہے کہ زخمی کو اسپتال پہنچانے والے فرد کو ہراساں کرنا بھی جرم ہوگا، ایکٹ کی خلاف ورزی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

بل پیش کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی اس بچی کو واپس نہیں لاسکتے مگر بل کو اس کا نام دے رہے ہیں، کوشش کریں گے پیر کو بل واپس لائیں اور منظور ہو۔

انہوں نے کہا کہ اندھی گولی لگنے اور پولیس کیس کی بنیاد پر علاج نہ ملنے پر بل لائے ہیں، زخمی کو فوری ہنگامی علاج دیں گے تو اسپتال کا درجہ ملے گا۔ نجی اسپتالوں میں پولیس کیس کا جواز بنا کر ہراساں کیا جاتا ہے۔ نجی اسپتال والے ایمبولینس بھی میسر نہیں کرتے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایسا واقعہ ہوا اور اسپتال نے علاج نہ کیا تو جرمانے بھی عائد ہوں گے، بل کو متعلقہ کمیٹی کو ریفر کرنے کی گزارش ہے، اس قانون کا نام امل عمر رکھنا چاہتے ہیں۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد سندھ حکومت کے مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے قانونی سازی ہو جاتی ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا، وزیر اعلیٰ سندھ نے یقین دلایا ہے قانون سازی پر من و عن عمل ہوگا۔ اسپتال کا درجہ حاصل کرنے کے لیے قانون پر عمل کرنا ہوگا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جسے اسپتال بنانا ہے اسے قانون کے مطابق سہولتیں دینی ہوں گی، کوئی شخص اسپتال میں لایا جاتا ہے تو میڈیکو لیگل کے بغیر پہلے جان بچائی جائے، ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقلی کا بھی تدارک کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی صورتحال میں ایک سے دوسرے اسپتال منتقل کرنا مشکل ہوتا ہے، دوسرے اسپتال منتقلی کے لیے ایمبولینس میں تمام سہولتیں لازمی ہوں گی، اسپتال یا کوئی شخص اس قانون پر عمل نہیں کرے گا تو کارروائی ہوگی۔

مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ امید ہے بل پیر کے روز سندھ اسمبلی سے پاس کروایا جائے گا۔ کوشش ہوگی کہ اہلکاروں کو اے کے 47 کے بجائے پستول فراہم کی جائے، اہلکاروں کے فوری فائرنگ کے مسئلے سے بھی نمٹنے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں