ایدھی صاحب کے نام صاحبانِ فنونِ لطیفہ کا نِت نئے انداز سے اظہارِ عقیدت -
The news is by your side.

Advertisement

ایدھی صاحب کے نام صاحبانِ فنونِ لطیفہ کا نِت نئے انداز سے اظہارِ عقیدت

پیکرِ محبت و اخلاص اور محسنِ لاچار و بے کس عبدالستار ایدھی لاوارثوں کو ایک بار بھی لاوارث کر گئے ہرآنکھ اُن کی موت پر اشک بارہے اور خود اُن کی اپنی آنکھیں اپنی یاد و محبت اور احسان واحترام میں خوشی کے آنسوؤں سے بھری رہیں گی کہ ایدھی صاحب اپنی آنکھیں بھی عطیہ کر گئے جوآج سے دو نابینا افراد کو نورِ بینائی سے منور کر رہی ہیں۔

ایدھی صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر شخص نے اپنے اپنے ہنر کو آزمایا کوئی شعری قالب میں اپنی رنجیدگی کا اظہار کررہا ہے تو کوئی پینٹنگ کے ذریعے ایدھی صاحب کے فلسفے کو رنگوں سے آویزاں کررہا ہے کسی نے نثر میں مدح سرائی کی تو کوئی منقبت پڑھتے نظرآیا اور جو کچھ نہیں کر سکا تواپنے خونِ جگر کو آنسووؤں کی زباں دے گیا۔

کورنگی کی دیوارِ قدردانی اس کی نادر مثال ہے جس کی نظیر پاکستان کے کسی اور علاقہ میں نہیں ملتی،دیوارِقدردانی کا آغاز معروف صوفی قوال امجد صابری کی شہادت پر ہوا جب جامعہ کراچی کے چار طالب علموں نے اس دیوار پر امجد صابری کی پینٹنگ بناکر یہ سلسلہ شروع کیا اب اسی دیوار پر ایدھی صاحب کی تصاویر بھی پینٹ کی گئی ہیں۔

POST 2

یوں تو ایدھی صاحب ہمارے دلوں میں یوں براجمان ہیں کہ اُن کی یاد کے انمٹ نقوش کسی محو نہیں ہو سکتے تا ہم دیوار قدردانی میں ایدھی صاحب کی پینٹنگ دلوں میں حرارت پیدا کر جاتی ہے۔

POST 8

ایک اور ممتاز مصور رافع صاحب نے بھی برش اور رنگوں کی مدد سے ایدھی صاحب کے نقش، روح اور مقصد کو اجاگر کرنے کی خوبصورت کوشش کی ہے۔

POST E

ایک اور مصور ایدھی کو یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

POST 4

معروف مصور محمد اویس کی ایدھی صاحب کے لیے اظہارعقیدت کا ایک انداز ….

POST 5

مصوری کا ایک اور شاہکار مصورعبدالباسط کی تخلیق..

edhi honor 11

جدید ٹیکنالوجی نے اپنے نظریات و خیالات کے ابلاغ کو موثر اور بر وقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، دیکھیے کس طرح یہ طریقہ اپنا رنگ جماتا ہے اور انسانی تخیل کو حقیقت کا روپ دیتا ہے،ایدھی صاحب کے لیے تخیل کو رنگ و روشنی سے منور کیا گیا۔

edhi honor  9

جہاں مصوروں نے اپنے برش اور رنگوں سے ایدھی صاحب کی شخصیت سے اپنے لگاؤ کا اظہار کیا اسی طرح ملک کے نامور شعراء نے بھی گلہائے عقیدت پیش کیے ان میں سے کچھ شعراء نے اظہار رائے کے لیے معروف سماجی ویب سائیٹ کا انتخاب کیا۔

قرآنی آیت سے موضوع کو تراشنے والے شاعر سوز صاحب نے ایدھی صاحب کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جس قرآنی آیت کا انتخاب کیا اُس کو شعری قالب میں کچھ اس طرح ڈھالا۔

POST 1

معروف شاعر اور نغمہ نگار صابر ظفر کا قلم ایدھی صاحب کے انتقال پر حرف نہیں آنسو بہاتے ہوئے شعری طرز میں یوں رقم طراز ہوتا ہے۔

آہ ! عبدالستار ایدھی …

ٹھہر کے دیکھ زمانے ! چلا گیا ہے کوئی
کسی کی لاش اٹھانے ، چلا گیا ہے کوئی
صابر ظفر

حیدرآباد سے تعلق رکھنے معروف شاعر قابل اجمیری کے فرزند ارجمند ظفر قابل اجمیری ایدھی صاحب سے اپنی محبت کا اظہار یوں کرتے نظر آتے ہیں۔

ثبین سیف صاحبہ کراچی کی معروف شاعرہ ہیں، ثبین نسوانی جذبات کو زباں دینے والی نمائندہ شاعرہ ہیں وہ ایدھی صاحب کی موت کو اس طرح دیکھتی ہیں۔

حیدر حسنین جلیسی کی وجہ شہرت مزاحیہ شاعری ہے لیکن سنجیدہ غزل گوئی اور قطعات میں ان کی مہارت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں وہ ایدھی صاحب کی موت یوں دل گرفتہ نظر آتے ہیں۔

جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممتاز شاعر اور اردو ادب کے استاد مرشد ناصر سعید اپنے دلی جذبات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں۔

ایک اور معروف شاعر ضیاء شاہد کا ایدھی صاحب کی موت پر اپنے رنج و الم کا اظہار یوں کیا۔

سماجی ویب سائیٹ پر کچھ اور نمونہء عقیدت و احترام

edhi honor5

edhi honor 8

edhi honor 10

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں