بدھ, جولائی 15, 2026
اشتہار

ایرانی حکومت گرانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، ٹرمپ کا اعتراف

اشتہار

حیرت انگیز

فرانس (16 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ہم نے ایرانی حکومت کو گرانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قطری امیر شیخ تمیم بن حمدالثانی کی جی 7 سمٹ کے موقع پر ملاقات ہوئی، جہاں امریکی صدر نے ایران کیساتھ معاہدے میں کردار پر قطری امیر کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ایران سے ہونے والا امن معاہدہ بالکل منصفانہ ہے جو اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں حکومت بدلنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن وہ ناکام رہیں۔ تاہم اب ایران کی موجودہ قیادت ماضی کی نسبت جارح نہیں، بلکہ سمجھدار ہے۔ ایران میں موجود انتہا پسندوں کےساتھ کوئی لین دین یا ڈیل نہیں کریں گے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اس معاہدے کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور مین نے اسی لیے امن معاہدہ کیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا۔ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار بنائے تو تہران پر دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو سب سے پہلے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کو تباہ کرتے اور شاید امریکا پر بھی حملے کی کوشش کرتا۔ ہم نے خطرے سے بچنے کے لیے پہلے ہی ایران کو روک دیا ہے۔

انہوں نے امریکا کے سابق صدور اوباما اور بائیڈن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اوباما ڈیل کی خامیوں کے باعث ایران جوہری طاقت بننے والا تھا جب کہ بائیڈن کی پالیسیوں کی وجہ سے ہم نے 57 فیصد آٹو موبائل بزنس کھویا اور بہت پیچھے چلے گئے۔ ہم دنیا میں چپس بنانے والی سب سے بڑی صنعت تھے، لیکن بائیڈن کی وجہ سے نقصان ہوا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ اچھے ماحول میں بات ہوئی ہے، لیکن ہم ایران کو کوئی معاوضہ نہیں دے رہے، جس طرح بائیڈن نے جہاز بھر بھر کر دیے تھے جب کہ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری بھی نہیں کرے گا۔

 اس موقع پر قطری امیر شیخ تمیم بن حمدالثانی نے کہا کہ ایران کے ساتھ جوڈیل ہوئی وہ انتہائی اہم ہے۔ اس معاہدے سے ایران سمیت مشرق وسطیٰ کو فائدہ ہوگا۔ قطر امن کیلیے ہمیشہ کردار ادا کرنے کیلیے تیار ہے، تاہم ابھی بہت کام باقی ہے تاکہ معاہدے کو مکمل طور پر کامیاب بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ میں بہت جانی نقصان ہو رہا ہے، میں روس یوکرین جنگ بندی کو سب سے آسان کام سمجھ رہا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تاہم اب دونوں ممالک کو ہر صورت ایک معاہدہ کرنا چاہیے۔ پیوٹن سے میری بات چیت ہوئی ہے۔

تہران کے ساتھ ایم او یو پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے، ڈونلڈ ٹرمپ

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں