The news is by your side.

Advertisement

امریکی صدر نے چینی مصنوعات پر محصولات عائد کرنے کے احکامات جاری کردیئے

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی جارحانہ اقتصادی پالیسیوں کے تحت چینی مصنوعات کی درآمدات پر 50 ارب ڈالر سے زائد کے محصولات عائد کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

تفصیلات کے مطابق منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی جانب سے ٹیکنالوجی کی چوری کے حوالے سے کی گئی تحقیقات کے بعد چینی مصنوعات پر ٹیکس لگانے کے حکم نامے پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا چین کی مصنوعات پر محصولات کے فیصلے پر ہر صورت عمل درآمد کرے گا اور چین کی جانب سے امریکا میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے حدود معین کردی گئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مذکورہ ٹیکسیز چین کی جانب سے امریکی ٹیکنالوجی کی چوری کو روکنے کی مہم کا حصّہ ہیں۔

امریکی سیکریٹری خزانہ اسٹیون منچین کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ امریکا کی اقتصادی جنگ کو دس دن کے لیے روکا ہوا تھا تاکہ سیکریٹری اقتصادیات ویلبر روز کی اس مسئلے پر چین سے بات چیت ہوسکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ چین کے علاوہ جنوبی امریکا کے ساتھ ایک ٹریڈ ڈیل کررہی ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹریڈ ڈیل کے بعد خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ گاڑیوں کی درآمدات پر نئے محصولات عائد کریئے جائیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمہ کی جانب سے نئے محصولات عائد کیے جانے کی وجہ سے سینیٹ کے اپوزیشن اراکین ٹرمپ کے مخالف ہوگئے ہیں، جس میں ٹرمپ کی پارٹی کے چیئرمین سینیٹ برائے فنانس اور کاشت کاری بھی شامل ہیں۔

چین کی وزارت برائے اقتصادیات نے وائٹ ہاوس کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وائٹ ہاوس کے بیان نے ہمیں حیرت زدہ کردیا، لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہے امریکا جو بھی اقدامات کرنا چاہتا ہے، کرلے، چین میں اپنے ملک و قوم کا دفاع کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر زور دیا گیا ہے کہ امریکا کو 375 ارب ڈالر کے نقصان کو مل کر پورا کرے، اور ٹریڈ پریکٹیسز کوختم کرے جس سے امریکی کمپنیوں کو نقصان ہورہا ہے۔

یاد رہے کہ دو رواں برس مارچ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی جارحانہ اقتصادی پالیسیوں کے تحت چینی مصنوعات کی درآمدات پر 50 ارب ڈالر سے زائد کے محصولات عائد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے سینئر اقتصادی مشیر کا کہنا تھا کہ ’چین غیرمنصفانہ طریقوں سے امریکی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی زبردستی حاصل کرکے اقتصادی بنیادوں فائدہ اٹھا رہا ہے‘ چینی درآمدات پرعائد کی جانے والی ڈیوٹیز کے ذریعے چین کی صنعتی یلغار کو روکے گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں