ٹرمپ نے آسٹریلیا سے ایرانی خواتین کی فٹ بال ٹیم کے ارکان کو سیاسی پناہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ آسٹریلیا ایران کی قومی خواتین کی فٹ بال ٹیم کو وطن واپس بھیجنے کی اجازت دے کر "ایک خوفناک انسانی غلطی” کر رہا ہے اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم سے ٹیم کے ارکان کو سیاسی پناہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
آسٹریلیا کی میزبانی میں ہونے والے ایشین کپ ٹورنامنٹ میں ایرانیوں کی مہم اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملہ کیا، جس میں اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کر دیا گیا۔
ٹیم اتوار کو فلپائن سے 2-0 سے ہارنے کے بعد باہر ہو گئی۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ "ایران نیشنل وومنز ساکر ٹیم کو زبردستی واپس ایران جانے کی اجازت دے کر آسٹریلیا ایک خوفناک انسانی غلطی کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے پیغام میں کہا کہ اگر آپ انہیں پناہ نہیں دیں گے تو امریکا انہیں لے جائے گا۔
واشنگٹن میں آسٹریلیا کے سفارت خانے نے ٹرمپ کے ریمارکس پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
آسٹریلیا کے ایس بی ایس نیوز نے کہا کہ ایرانی خواتین کی فٹ بال ٹیم کے پانچ کھلاڑی "آزاد” ہو چکے ہیں اور اب وہ آسٹریلوی فیڈرل پولیس کے تحفظ میں ہیں اور حکومت سے مدد کے خواہاں ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ حکومتی ذرائع نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے اور مزید کہا ہے کہ آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک خواتین سے ملاقات کے لیے برسبین گئے تھے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


