ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورۂ چین میں امریکی معیشت کے لئے خاطر خواہ فوائد حاصل کرنے میں کام یاب ہوئے ہیں، یہ بات دنیا بھر کے ذرایع ابلاغ میں کئی روز سے زیرِ بحث ہے، کیوں کہ دنیا کے دو بڑے اور مضبوط ترین معیشتوں کے سربراہوں کی اس ملاقات میں کسی بہت اہم اور قابلِ ذکر معاشی، سیاسی، سفارتی یا ثقافتی سطح پر کوئی بڑا اشتراک دیکھنے میں نہیں آیا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر اپنے حالیہ دورۂ چین میں کئی بڑے اہداف مکمل طور پر حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کے باوجود مغربی میڈیا نے اس دورے کو سفارتی سطح پر مثبت انداز میں پیش کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے دورۂ چین میں توقع کی جارہی تھی کہ دنیا کی دونوں بڑی معیشتوں کے سربراہان کی ملاقات دنیا میں جاری تجارتی تحفظ کی پالیسی اور آزاد تجارتی منڈیوں کے قیام کے حوالے سے کسی نہ کسی اہم معاہدے پر پیش رفت ثابت ہوگی مگر اس دورے میں ایسا کچھ نہ ہوسکا۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ملکی سطح کی اعلیٰ ترین قیادت اس وقت ملاقات کرتی ہے جب کسی پالیسی یا منصوبے سے متعلق خاصا کام ہوچکا ہوتا ہے۔ اور ان کی ملاقات صرف تصاویر بنوانے اور ایک قسم کا اعلان ہوتی ہے۔ مگر لگتا ہے کہ ٹرمپ کے دورۂ چین سے قبل سفارتی سطح پر ایسی کوئی بھی کوشش کی گئی ہو، وہ کام یاب نہیں ہوسکی بلکہ بیشتر تجارتی اور معاشی وعدوں کو ابتدائی نوعیت کے سمجھوتے کہا جاسکتا ہے جن پر عمل درآمد کب اور کیسے ہوگا اس حوالے کوئی تفصیل دستیاب نہیں ہے۔
چین نے امریکی صدر کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ امریکی زرعی اجناس کی خریداری کے علاوہ امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے طیاروں کی خریداری کرے گا۔ مگر یہ بھی محض گفتگو کی حد تک ہے اور اس پر کوئی ٹھوس معاہدہ سامنے نہیں آیا ہے۔
مغربی میڈیا میں یہ توقع کی جارہی تھی کہ امریکی صدر چینی قیادت کو تائیوان کے حوالے سے قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ اس کی خودمختاری کا احترام کیا جائے مگر اس حساس معاملے پر چینی قیادت کوئی بھی رعایت دینے کو تیار نہیں ہے۔ اور صدر ٹرمپ تائیوان سے فوجی کشیدگی ختم یا اسے کم کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے واضح کیا کہ تائیوان کا معاملہ چین کے نزدیک “سرخ لکیر” جیسا ہے۔
چین کی موجودہ سیاسی قیادت کا وژن ہے کہ وہ چین کو ہائی گروتھ ریٹ سے ہائی ٹیک گروتھ ریٹ کی جانب لے جائے۔ جب کہ امریکا خود کو ٹیکنالوجی اور ایجادات کا مرکز اور محور سمجھتا ہے۔ اس وجہ سے یہ معاملہ بھی دونوں ملکوں کے درمیان تناو کی ایک اہم وجہ بنا ہوا ہے۔ چینی کمپنیاں تیزی سے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ٹکر دے رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے دورۂ چین میں دونوں ملکوں کے درمیان ٹیکنالوجی کی سرد جنگ پر بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد سیمی کنڈیٹرز پر ہے جس کی چین کو برآمد پر امریکا نے پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ ظاہر اس کا مقصد چین کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں آگے بڑھنے سے روکنا ہے۔ ماضی میں امریکا نے چینی کمپنی ہواوے کا راستہ روکنے کے لئے اقدامات کیے جب کہ چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے خلاف بھی امریکا میں قانونی چارہ جوئی کے بعد اس کے امریکا میں کاروبار کو فروخت کیا گیا ہے۔
ایران پر حملے کے بعد امریکا اب اس تنازعے سے نکلنے کی کوششیں کررہا ہے۔ کیونکہ اس جنگ میں امریکا کو جتنا نقصان ہوچکا ہے وہ ماضی قریب کی کسی بھی جنگ سے زائد ہے۔ دوسری طرف چین کا بھی قومی اور معاشی مفاد اسی میں ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت اور اشیاء کی ترسیل و فراہمی کا سلسلہ جاری رہے۔ اس میں خلل پڑنے سے چین کو ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کے علاوہ چینی مصنوعات کی اہم منڈیوں تک رسائی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ جس سے چین کی انرجی اور تجارتی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے جو معاشی بحران پیدا ہورہا ہے۔ اس سے سب سے زیادہ ایشیائی اور افریقی ملک متاثر ہورہے ہیں اور یہی ملک چین کی مصنوعات کی منڈیاں بھی ہیں۔
صدر ٹرمپ کی بھر پورکوشش تھی کہ وہ چین کے دورے سے قبل ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرلیں اور یہ معاہدہ ایسا ہو کہ وہ بطور فاتح چین جائیں مگر ایرانی قیادت کے فیصلوں اور اقدامات نے گویا صدر ٹرمپ کے اعصاب کو توڑ کر رکھ دیا اور باوجود شدید خواہش کے وہ دورۂ چین سے قبل ایران سے مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کرنے میں ناکام رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے آبنائے ہرمز کے معاملے کو حل کرانے کے لئے مدد کی درخواست کی ہے اور چین کی جانب سے اس پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ مگر امریکا کی خواہش کے مطابق چین نے ایران کے معاملے پر اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ بلکہ صدر ٹرمپ کے دورے کے فوری بعد روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے دورے میں یک طرفہ سخت اقدامات کے اعلان سے تو اس جنگ کے حوالے سے امریکا کی مذمت ہوتی ہے۔چینی صدر شی جن پنگ نے سفارتی سطح پر ملاقاتوں کو کام یاب بنایا ہے، لیکن امریکا اور خصوصاً صدر ٹرمپ کو کوئی بھی ایسی رعایت نہیں دی ہے جو کہ امریکا کو اس کی مقامی سیاست میں فائدہ پہنچا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر چین کو اس بات پر قائل کرنے گئے تھے کہ وہ اور چین مل کر دنیا میں ایک نیا ورلڈ آڈر قائم کریں جس کو جی ٹو کا نام دیا گیا ہے۔ مگر چین نے اس کے بجائے عالمی تجارت میں مسابقت کو منظم کرنے کی کوشش، علامتی سفارت کاری، اور محدود پیش رفت کا دورہ قرار ہے۔ ماہرین کی نظر میں صدر ٹرمپ اپنے دورۂ چین میں کوئی خاص اور واضح اسٹریٹجک کام یابی حاصل نہیں کرسکے اور دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان بنیادی تنازعات کے حل میں پیش رفت کا امکان تک پیدا نہیں ہوا ہے۔ اس دورے نے امریکا اور چین کے درمیان نہ تو اسٹریٹجک مقابلہ ختم کروایا اور نہ ہی تجارت، ٹیکنالوجی کی دوڑ اور تائیوان جیسے معاملے پر چین کا سخت مؤقف کسی طرح بھی تبدیل ہوا۔
سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ کشیدگی کم کرنے میں کسی حد تک تو مددگار ثابت ہوا ہے، مگر دونوں ممالک کے تعلقات میں بنیادی تبدیلی نہیں لا سکا۔
راجہ کامران سینئر صحافی ہیں۔ کونسل آف اکنامک اینڈ انرجی جرنلسٹس (CEEJ) کے صدر ہیں۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل rajajournalist@ ہے۔


