ماسکو : روسی ہم منصب ولادیمیرپیوٹن نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے میں جنگ کے سیاسی وسفارتی حل کی تجاویز پیش کردیں۔
تفصیلات کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے درمیان پہلا ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔
جسمیں خطے کی کشیدہ صورتحال اور عالمی توانائی کے بحران پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پیوٹن نے خلیجی ممالک کے رہنماؤں اور ایرانی صدر سے ہونے والی بات چیت کے تناظر میں جنگ کو ختم کرنے کے لیے سیاسی و سفارتی حل کی تجاویز پیش کیں۔
روس نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے خطے میں امن بحال کیا جا سکتا ہے۔
دونوں سربراہانِ مملکت نے صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی تیل کی منڈی پر بھی بات کی۔
ٹرمپ اور پیوٹن نے وینزویلا کے تیل کی عالمی بازار میں ترسیل اور اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا، تاکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کو کنٹرول کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے "ایپک فیوری” آپریشن اور ایران میں فوجی کارروائیوں کے اعلان کے بعد پیوٹن سے یہ پہلا رابطہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں عالمی طاقتیں پسِ پردہ کسی بڑے معاہدے یا جنگ بندی کے فارمولے پر کام کر رہی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


