The news is by your side.

Advertisement

امریکی صدر پر کرونا ہلاکتوں کا الزام، “ٹرمپ ڈیتھ کلاک” لگادی گئی

نیو یارک :امریکہ میں کورونا وائرس سے 80ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں صدر ٹرمپ کی جانب سے فوری اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری ان پر عائد کی جارہی ہے۔

کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، امریکہ میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ مریضوں کی تعداد 13 لاکھ سے زائد ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ میں وائرس سے مزید 830 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس دوران نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں ایک نیا بل بورڈ نصب کیا گیا ہے۔

اس بل بورڈ کو “ٹرمپ ڈیتھ کلاک”کا نام دیا گیا ہے، اس بورڈ س پر امریکہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی وہ تعداد بتائی جا رہی ہے جو بورڈ کے تخلیق کار کے مطابق صدر ٹرمپ کے بروقت اقدام سے نہ ہوتیں۔

تخلیق کار فلم میکر یوجین جاریکی ہیں جنہوں نے یہ ’کلاک‘ ٹائمز اسکوائر کی ایک بلڈنگ کی چھت پر نصب کی ہے جو کورونا وائرس کے دوران خالی پڑی ہے۔

ذرائع کے مطابق پیر کو اس کلاک پر 80 ہزار ہلاکتوں میں سے 48 ہزار اموات ایسی بتائی جا رہی تھیں جن کی جانیں تخیلق کار کے مطابق صدر ٹرمپ کے بروقت اقدامات سے بچائی جا سکتی تھیں۔

ذرائع کے مطابق ” کلاک” اس مفروضے پر چل رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اگر بروقت سماجی فاصلوں اور اسکولوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کرتی تو اب تک ہونے والی اموات میں سے 60 فیصد کم ہوتیں۔

کلاک لگانے والے یوجین جاریکی نے اپنے بل بورڈ پر وضاحت کی ہے کہ اگر 9 مارچ کو لاک ڈاؤن کیا جاتا تو زیادہ اموات سے بچا جا سکتا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں