The news is by your side.

Advertisement

کرونا ویکسین نہیں بننے دوں گا کی ضد، ٹرمپ نے ڈاکٹر کو سزا دے دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا ویکسین تیار کرنے والے ادارے کے سربراہ کو عہدے سے برطرف کردیا۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر اعلان کیا کہا ملیریا کی بیماری کا مقابلہ کرنے والی دوا ہی کرونا وائرس کے خلاف کارگر ہے تو ہم نئی ویکسین کی تیاری میں کیوں وقت اور پیسہ ضائع کریں۔

ویکسین تیار کرنے والے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر رک برائٹ نے کلوروکوئن سے متعلق ٹرمپ کی رائے سے اختلاف کیا اور امریکی صدر کو مشورہ دیا تھا کہ وہ عوام کو غلط مشورے دینے سے اجتناب کریں۔

ڈاکٹر رک برائٹ کا کہنا تھا کہ سائنس ، سیاست یا اقربہ پروری کا نام نہیں ہے، ہمارا شعبہ امریکیوں کی صحت اور اُن کی حفاظت کے لیے اقدامات کررہا ہے مگر صدر ٹرمپ نے معاملے پر ہمیشہ سیاست کی۔

مزید پڑھیں: کرونا وائرس طویل عرصے تک ہمارے ساتھ رہ سکتا ہے، ڈبلیو ایچ او

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ روز احکامات دیے کہ ڈاکٹر رک برائٹ کو فوری طور پر برطرف کیا جائے جس کے بعد اُن سے عہدہ واپس لے لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رک برائٹ نے اپنی برطرفی پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت ٹرمپ نے حکم دیا میں دوا کے حوالے سے ایک مٹینگ میں مصروف تھا۔

ڈاکٹر کی برطرفی پر امریکی عوام اور طبی ماہرین نے ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اُن سے اپیل کی کہ کرونا کے معاملے پر سیاست سے گریز کریں کیونکہ صورت حال بہت زیادہ تشویشناک ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر رک برائٹ 2016 سے بائیو میڈیکل اڈوانسٹد اینڈ ریسرچ اتھارٹی کے سربراہ تھے اور انہوں نے انفلوئنزا اور ایمرجنگ انفیکشنز ڈیزیزز ڈویژن کی سربراہی بھی کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں