site
stats
حیرت انگیز

ٹرمپ کی یہ عادت ان کی ذہنی خرابی کی علامت؟

آپ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ عجیب و غریب اور بے تکے مصافحے تو یاد ہوں گے جو چند دن قبل تک دنیا بھر کی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔

ٹرمپ مصافحہ کرتے ہوئے اپنے مدمقابل کو اس طرح کھینچتے ہیں کہ گمان ہوتا ہے کہ وہ بیچارہ ابھی ان پر گر پڑے گا۔ دھان پان سی جسامت کے حامل افراد تو ان کے بے تکے مصافحوں سے لڑکھڑا جاتے ہیں اور بڑی مشکل سے اپنے آپ کو گرنے سے بچاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کے بے تکے مصافحے

اب جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ویسے ویسے ٹرمپ کی مزید عجیب و غریب اور غیر معمولی عادات سامنے آرہی ہیں۔

حال ہی میں میڈیا نے ان کی ایک اور عجیب و غریب عادت کی طرف اشارہ کیا جو ٹیبل پر بیٹھتے ہی سامنے رکھی چیزوں کی جگہ تبدیل کردینے کی ہے۔

ٹرمپ جب بھی گفتگو یا میٹنگ کے لیے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہیں تو وہ میز پر اپنے سامنے رکھے کافی کے کپ، ٹی میٹ، کاغذات حتیٰ کہ اپنے نام کے بورڈ کو بھی ہٹا کر دور رکھ دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی اس عادت کا کافی مضحکہ اڑایا جارہا ہے، تاہم مختلف شعبہ جات کے ماہرین اس پر مختلف آرا پیش کر رہے ہیں۔

ماہرین طب کے مطابق ٹرمپ کی یہ عادت ایک ذہنی مرض اوبسیسو کمپلزو ڈس آرڈر کی علامت ہوسکتی ہے۔ اس مرض میں مبتلا شخص بار بار مختلف اشیا کو چیک کرنے کے عادی ہوجاتا ہے۔

ایسے افراد کسی بھی چیز سے مطمئن نہیں ہوتے اور اپنے انجام دیے ہوئے کاموں کو بار بار دیکھتے ہیں کہ کہیں وہ غلط تو نہیں۔

دوسری جانب ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ عادت ٹرمپ کی حاکمانہ عادت کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ اپنی چیزوں کو دور دور تک ترتیب دے کر دراصل اپنی وسیع حدود اور جگہ کو متعین کرتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ عادت کامیاب، بااعتماد اور اونچے عہدوں پر براجمان افراد کی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس عام افراد جو ایک عام زندگی گزار رہے ہوتے ہیں وہ اکثر اپنی اشیا کو اپنے قریب کر لیتے ہیں اور یہ ان میں کم اعتمادی کی علامت ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: کامیاب اور ناکام افراد میں فرق

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ یہ حرکت اس لیے کرتے ہیں تاکہ سامنے موجود کیمرے ان پر واضح طور پر فوکس کر سکیں اور کوئی چیز ان کی راہ میں نہ آئے۔

معروف کامیڈین جمی کیمل نے بھی اپنے پروگرام میں ٹرمپ کی اس عادت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ ٹرمپ کے صحت منصوبے میں او سی ڈی (اوبسیسو کمپلزو ڈس آرڈر) شامل ہو تاکہ ان کا بھی علاج ہوسکے۔

وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کو آئے ابھی تو صرف 2 ماہ ہی ہوئے ہیں، ابھی ان کو 4 سال وہیں گزارنے ہیں اور اس دوران انتظار کریں کہ ٹرمپ کی مزید کون سی عجیب و غریب عادات سامنے آتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top