نیو جرسی (7 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے اور تہران پر عائد پابندیاں ہٹانے سے انکار کر دیا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ امن معاہدہ طے پانے سے پہلے نہ تو ایران کے منجمد اثاثے بحال کریں گے اور نہ ہی پابندیاں اٹھائیں گے، ان اقدامات پر معاہدہ مکمل ہونے کے بعد غور کیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ سب کچھ بعد میں ہوگا۔ ہاں اگر انہوں نے صحیح رویہ اپنایا اگر انہوں نے اچھا کام کیا تو ہم بات چیت شروع کریں گے‘۔
یہ بھی پڑھیں: مجتبیٰ خامنہ ای کی صدر ٹرمپ سے ملاقات نہیں ہوگی، محسن رضائی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اس بات کا مطالبہ نہیں کر رہا کہ لبنان ایران کے ساتھ ہونے والے کسی قلیل مدتی معاہدے کا حصہ بنے، میرے خیال میں وہ ایسا دیکھنا چاہیں گے لیکن میں مطالبہ نہیں کر رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ہم ایک معاہدے کے بہت قریب ہیں ورنہ میں ان کا نام و نشان مٹا دوں گا‘۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے بات کرنے کیلیے تیار ہیں جو تنازع کے آغاز میں امریکی حملوں میں زخمی ہونے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ مجھے معلوم ہے کہ وہ کہاں ہیں یا نہیں لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ میں جانتا ہوں۔


