واشنگٹن (17 جنوری 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران میں اب نئی قیادت کی تلاش کا وقت آگیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات پولیٹیکو سے گفتگو میں کہی ہے۔ امریکی صدر کا مذکورہ بیان ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے اس الزام کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے حالیہ احتجاجی لہر کے دوران ہونے والے جانی نقصان کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہرایا ہے۔
ایران میں احتجاج 28 دسمبر کو معاشی بدحالی کے خلاف شروع ہوئے تھے جو بعد ازاں ملک گیر مظاہروں میں تبدیل ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران پر حملے کا ارادہ آخری لمحوں میں بدل دیا، برطانوی اخبار کا دعویٰ
احتجاجی مظاہروں کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں بارہا فوجی کارروائی کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے مظاہرین کو سزائے موت دی تو انتہائی سخت کارروائی کی جائے گی۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے ایرانی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بڑے پیمانے پر پھانسیوں کے فیصلے کو واپس لے لیا ہے۔
امریکی صدر نے آیت اللہ خامنہ ای پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکمران حکومت کرنے کیلیے جبر کا سہارا لیتے ہیں۔
پولیٹیکو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایک ملک کے لیڈر کی حیثیت سے وہ ملک کی مکمل تباہی اور ایسی پرتشدد کارروائیوں کے مرتکب ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے نظام کو چلانے کیلیے قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کو درست طریقے سے چلانے پر توجہ دے جیسا کہ میں امریکا میں کرتا ہوں، نہ کہ اقتدار پر قبضے کیلیے ہزاروں لوگوں کو قتل کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ قیادت کا مطلب احترام ہوتا ہے خوف اور موت نہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


