ہفتہ, اپریل 18, 2026
اشتہار

ٹرمپ کے نئے سپریم لیڈر سے متعلق بیانات پر ایران کا سخت ردعمل

اشتہار

حیرت انگیز

تہران (8 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے سپریم لیڈر سے متعلق بیانات پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

امریکی ٹی وی کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سپریم لیڈر کا انتخاب مکمل طور پر ایران کا اندرونی معاملہ ہے لہٰذا بیرونی مداخلت ہرگز قبول نہیں، ملک کے تمام سیاسی ادارے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

عباس عراقچی نے کہا کہ مجلس خبرگان جلد نئے قائد کا انتخاب کر لے گی، ایران اپنے داخلی معاملات میں کسی غیر ملکی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا، نئے رہبر معظم کا انتخاب صرف ایرانی عوام کا حق ہے، سپریم لیڈر کا انتخاب کسی دوسرے ملک کا درد سر نہیں ہونا چاہیے۔

ایران اسرائیل امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریں

اسرائیل اور امریکا پر جوابی حملوں کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے قانونی دفاع ہیں، امریکی اہداف کو نشانہ بنانا امریکا اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کا ردعمل ہے۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ یہ جنگ ہم پر بلااشتعال اور غیر قانونی طور پر تھوپی گئی ہے، ایرانی فوجی کارروائیاں خطے میں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات تک محدود ہیں، پڑوسی ممالک کی سرزمین پر موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا دفاعِ وطن کا جائز حق ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل اپنے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای بطور سپریم لیڈر ناقابل قبول ہے، انتخاب کے عمل میں میرا شامل ہونا ضروری ہے۔

جبکہ آج انہوں نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کو ہماری منظوری ہونی چاہیے، اگر ہم منظور نہیں کرتے تو ایران کا نیا سپریم لیڈر زیادہ دیر نہیں چل سکے گا، خامنہ ای کی جگہ لینے کیلیے پرانی حکومت کے لوگ اہل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پورے مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا ایران جنگ کے خاتمے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں، خصوصی افواج بھیجنے پر کچھ بھی ممکن ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں