واشنگٹن (14 فروری 2026): امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کیشدگی کے درمیان اہم پیشرفت سامنے آگئی جس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کیلیے تیار ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ملاقات کی خواہش ظاہر کرتے ہیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان سے ملاقات کیلیے تیار ہیں۔
مارکو روبیو نے کہا کہ اگر کل آیت اللہ خامنہ ای یہ کہیں کہ وہ ٹرمپ سے ملنا چاہتے ہیں تو امریکی صدر ان سے ملاقات کریں گے، ایسا اس لیے نہیں ہوگا کہ ٹرمپ ایرانی سپریم لیڈر سے متفق ہیں بلکہ اس لیے کہ ان کا ماننا ہے کہ مسائل حل کرنے کا یہی طریقہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں بہت بڑی فوج تیار ہے، ٹرمپ کی ایران کو پھر دھمکی
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کسی سے ملاقات کرنے کو رعایت دینا نہیں سمجھتے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر دھکمایا ہے کہ اگر اس نے ڈیل نہیں کی تو مشرق وسطیٰ میں ہمارے پاس بہت بڑی فوج تیار ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے آج کہا کہ ہم ایران کے ساتھ ڈیل چاہتے ہیں، توقع ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے، لیکن اگر نہ ہوئے تو ایران کیلیے بہت بُرا ہوگا اور اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ جیرالڈ فورڈ بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا ہے، ڈیل نہ ہونے کی صورت میں بحری بیڑے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، ہمارا ایک بحری بیڑہ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہے، اگر ضرورت پڑی تو بیڑہ استعمال کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے اس موقع پر روس یوکرین جنگ کے حوالے سے بتایا کہ روس معاہدہ کرنا چاہتا ہے یوکرینی صدر زیلنسکی کو متحرک ہونا پڑے گا، اگر انہوں نے کچھ نہ کیا تو وہ عظیم موقع کھو دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپ کے ساتھ امریکی تعلقات بہترین ہیں اور یورپی رہنماؤں سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


