The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ نے گولان ہائیٹس پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرکے تاریخ‌ رقم کردی، نیتن یاہو

تل ابیب : اسرائیلی وزیر اعظم نیتن کا ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ’صدر ٹرمپ نے گولان ہائیٹس پر اسرائیلی خود مختاری کو تسلیم کرنے تاریخ رقم کردی‘۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ میں موجود ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل سے اپنی دوستی ثابت کرتے ہوئے شام کی گولائیٹس پر اسرائیلی قبضے کو مکمل طور پر تسلیم کرلیا ہے۔

بنجامن نیتن یاہو نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’رات اپنے دوست صدر ٹرمپ نے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، اور گولان ہائیٹس سے متعلق گفتگو ہوئی، ہمیں ٹرمپ سے بہتر دوست نہیں مل سکتا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شکریہ صدر ٹرمپ، شکریہ امریکا، صدر ٹرمپ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کرکے تاریخ رقم کردی۔

مزید پڑھیں : گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کی مکمل بالادستی تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ 52 سال بعد امریکا شام کی گولان ہائیٹس پراسرائیل کی مکمل بالادستی تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کی سلامتی اور علاقے کے استحکام کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیرخارجہ مائیک پومپیو بھی یروشلم میں ہیں۔

دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک کونسل آف فارن ریلیشنز کے صدر رچرڈ ہاس نے ٹویٹرپراپنے پیغام میں کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے سخت اختلاف رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا نے 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا اور 2018 میں تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کردیا تھا۔

امریکی سفارت خارجہ یروشلم منتقل کرنے پر فلسطین اور عرب دنیا سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔

واضح رہے کہ گولان کی پہاڑیاں 1200 مربع کلومیٹر پرپھیلی ایک پتھریلی سطح ہے جو کہ شامی دارالحکومت دمشق سے تقریباََ 60 کلومیٹرجنوب مغرب میں واقع ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں