(12 اگست 2026): امریکی میڈیا سی این این امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لاحق خطرے کی اہم تفصیلات سامنے لے آیا۔
سی این این نے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ ماہ ترکی میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے آخری روز ڈونلڈ ٹرمپ کے طیارے (ایئر فورس ون) کو زمین سے مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنانے کا خطرہ تھا۔ صورتحال کے بعد امریکی حکام میں کھلبلی مچ گئی اور انہوں نے صدر کو ایک متبادل طیارے کے ذریعے ملک سے باحفاظت نکالنے کا ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ خطرہ اس قدر واضح اور سنجیدہ تھا کہ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ اگر صدر ٹرمپ نے روایتی ایئر فورس ون یا اس دورے کیلیے استعمال ہونے والے قطری طیارے میں سے کسی پر بھی ملک سے پرواز کی تو ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے ایک لگژری ہوٹل میں ایک رات قیام کیا تھا اور ہوٹل سے اجلاس کے مقامات تک کئی بار سفر کیا تھا۔
امریکی فوجی اور سیکرٹ سروس کے اہلکاروں سمیت اعلیٰ حکام نے فوری طور پر ایک منصوبہ بنایا جس کے تحت چند گھنٹوں کے اندر صدر ٹرمپ کو ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے دوسرے طیارے میں منتقل کر کے ملک سے روانہ کیا گیا۔
اس دورے میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سمیت کئی اعلیٰ حکام صدر ٹرمپ کے ساتھ ترکی گئے تھے لیکن واپسی پر یہ سب ان کے ساتھ نہیں تھے۔
سی این این کی ایک ویڈیو تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ صدر کے قافلے کی ایئر پورٹ آمد سے پہلے ہی انقرہ ایئرپورٹ پر حکام نے ایئر فورس ون کے قریب ایک کیٹرنگ ٹرک کھڑا کر دیا تھا۔
صدر ٹرمپ کے طیارے میں سوار ہونے کے بعد کیٹرنگ ٹرک کے کنٹینر کو نیچے کیا گیا اور وہ بڑے طیارے سے ہٹ کر ایک چھوٹے طیارے (C-32A) کے پاس جا کر رک گیا۔
اب صدر کے بغیر بڑا طیارہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 8:44 پر روانہ ہوا جو اس چھوٹے طیارے کے پاس سے گزرا جس کے اندر صدر ٹرمپ موجود تھے۔ اس کے ایک منٹ بعد چھوٹے طیارے نے بھی ٹیکسی وے پر سفر شروع کر دیا۔
امریکی حکام کے مطابق جب طیارے بدلنے کا وقت آیا تو وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ سمیت دیگر عملہ، فوجی اہلکار اور میڈیا کے نمائندے نیلے اور سفید رنگ کے بڑے بوئنگ 747 طیارے میں ہی سوار رہے۔ طیارے میں سوار اکثر مسافروں کو اس بات کی خبر ہی نہیں تھی کہ صدر ٹرمپ اس پرواز میں موجود نہیں ہیں۔


