واشنگٹن (10 مئی 2026): وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سوتے ہیں اور نہ آرام کرتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 24 گھنٹے کام جاری رکھتے ہیں۔ وہ سوتے ہیں اور نہ آرام کرتے ہیں اور نہ ہی تھکتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق انڈیپنڈنٹ ویمنز گالا کی تقریب سے خطاب میں سوزی وائلز نے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھ ڈین سکاوینو باری باری ڈونلڈ ٹرمپ کے امور سنبھالتے ہیں اور ان کی کالز وصول کرتے ہیں۔
’’آہنی خاتون‘‘ کا خطاب پانے والی 60 سالہ وائلز نے کہا کہ وہ امریکی صدر کی صبح سویرے آنے والی کالز سنبھالتی ہیں، جبکہ سکاوینو رات گئے کی کالز وصول کرتے ہیں۔
اس موقع پر سیشن کے میزبان نے پوچھا کہ آپ ایسے شخص کے ساتھ کیسے کام کر سکتی ہیں جو کبھی نہیں سوتا! جب کہ عام انسان جنہیں نیند کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جنہیں نیند کی ضرورت نہ ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حقیقت میں مجھے بہت زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن انتخابی مہم کے دوران میں جلدی سو جاتی تھی، جبکہ سکاوینو رات کو دیر تک جاگنے کے عادی ہیں، اس لیے ہم نے کام تقسیم کر لیا تھا۔
وائلز نے بتایا کہ اس طرح ہم دو سال تک معاملات چلانے میں کامیاب رہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہمیں نیند مل سکے، چاہے ڈونلڈ ٹرمپ ایسا نہ کریں۔
اس دعوے کے برعکس گزشتہ سال نومبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چند تصاویر سوشل میڈیا اور مختلف خبروں کی ویب سائٹس پر وائرل ہوئی تھیں، جن میں وہ اوول آفس میں آنکھیں موندے دکھائی دے رہے تھے۔
اس کے علاوہ ان کی کابینہ اجلاس میں بھی سونے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔
صدر کے مخالفین نے ان تصاویر اور ویڈیوز کو استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ کی کارکردگی اور ان کی توجہ کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔
کابینہ اجلاس میں نیند سے جنگ، ٹرمپ کی ویڈیو وائرل، امریکی ٹی وی کی کاٹ دار تنقید
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


