ہالی ووڈ اداکارہ کرسٹن اسٹیورٹ نے بڑا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے علم بغاوت بلند کردیا۔
کرسٹن سمجھتی ہیں کہ وہ امریکا میں آزادی سے کام نہیں کرسکتیں اس لیے اپنی ہدایتکاری کے کیریئر کے لیے یورپ منتقل ہونا بہتر ہے، ہالی ووڈ اداکارہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے اور وہ ٹیکس پالیسی پر بھی نالاں نظر آتی ہیں۔
ٹرمپ نے چند ماہ پہلے امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی تھی جس کا مقصد فلم سازی کو امریکا تک محدود کرنا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ کہ فلموں پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز اب تک عملی شکل اختیار نہیں کرسکی ہے۔
اس پالیسی پر ردعمل دیتے ہوئے ٹویئلائٹ فلم کی مشہور اداکارہ نے برطانوی اخبار دی ٹائمز کو انٹرویو میں کہا کہ وہ صدر کے احکامات کی اندھی تقلید پر یقین نہیں رکھتیں خواہ وہ درست ہوں یا غلط ہوں۔
کام کی آزادی پر قدغن لگانے سے متعلق کرسٹن اسٹیورٹ نے کہا کہ پالیسیاں ایسی ہیں کہ وہ امریکا میں آزادانہ طور پر کام کرنے کے قابل نہیں رہیں اس لیے یورپ میں فلمیں بنانے کا فیصلہ کیا۔
کرسٹن نے امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس کے تصور کو فلم انڈسٹری کے لیے خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ امریکی صدر کے دور میں حقیقت بکھرتی جا رہی ہے مگر ہمیں اپنی مرضی کی دنیا تخلیق کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میں وہاں آزادی سے کام نہیں کر سکتی لیکن ہار بھی نہیں ماننا چاہتی، اپنی ہدایتکاری میں بننے والی پہلی فلم ’دا کرنولوجی آف واٹر‘ کے حوالے سے کرسٹن نے بتایا کہ امریکا میں ممکن نہ ہونے کی وجہ سے یہ فلم لاتویا میں شوٹ کی گئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت پیغام دیتے ہوئے اداکارہ نے کہ میں یورپ میں فلمیں بنانا چاہتی ہوں اور پھر انہیں امریکی عوام کو دکھانا چاہتی ہوں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


