وزیراعظم شہبازشریف نے امریکی صدر کے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم روکنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جرأت مندانہ قیادت اور پروجیکٹ فریڈم معطلی کے اعلان پر مشکور ہیں پاکستان اور برادر ملکوں کی درخواست پر پروجیکٹ فریڈم روکنے کا اعلان خوش آئند ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا مثبت ردعمل امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کوششیں خطے میں امن کیلئے اہم ہیں۔
وزیراعظم نے خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کے فروغ کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تنازعات کے پُرامن حل کیلئے مکالمے اور سفارتکاری کی مکمل حمایت کرتے ہیں اُمید ہے حالیہ پیشرفت خطے اور دنیا میں دیرپا امن اور استحکام کا باعث بنے گی۔
امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کے ساتھ جامع اور حتمی معاہدے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے، دونوں ممالک پروجیکٹ روکنے پر متفق ہیں، پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہم نے ایران کے خلاف نمایاں جنگی کامیابیاں حاصل کی ہیں، پروجیکٹ فریڈم روکنے کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ حتمی معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں یا نہیں، آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ رہے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ دراصل ’پروجیکٹ ڈیڈ لاک‘ ہے۔ انھوں نے اشارہ دیا کہ پاکستان کی ثالثی میں جو مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں، اس منصوبے سے اس میں ایک بار پھر ڈیڈ لاک واقع ہو جائے گا۔
پروجیکٹ فریڈم
امریکا کا ایک نیا منصوبہ سامنے آیا ہے جس کے تحت امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے یا خطرے میں موجود تجارتی جہازوں کو گائیڈ اور اسکاٹ کرے گی، تاکہ وہ محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزر سکیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آئل روٹ ہے اور یہاں کشیدگی کے باعث ہزاروں جہاز متاثر ہوئے، امریکی منصوبے کا مقصد آزادانہ جہاز رانی بحال کرنا ہے، امریکا کا الزام ہے کہ اس نے جہازوں پر حملے کیے، راستے محدود کیے یا کنٹرول کرنے کی کوشش کی، اور پروجیکٹ فریڈم اس صورت حال کے جواب میں شروع کیا جا رہا ہے۔
اس پروجیکٹ کے تحت امریکی بحری جہاز (ڈسٹرائرز) تجارتی جہازوں کے ساتھ چلیں گے، فضائی نگرانی، ڈرونز اور میزائل دفاعی نظام استعمال ہوگا، اور ہزاروں امریکی فوجی اور درجنوں جنگی وسائل تعینات کیے جانے تھے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


