واشنگٹن(6 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں امریکی زمینی افواج بھیجنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اسے وقت کا ضیاع قرار دیا ہے۔
جمعہ کے روز ایک انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تہران پہلے ہی اپنی عسکری صلاحیت کھو چکا ہے، اس لیے امریکا کو وہاں فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔
صدر ٹرمپ نے این بی سی نیوز سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں زمینی فوج بھیجنا وقت کا ضیاع ہے، وہ سب کچھ کھو چکے ہیں۔ ان کی بحریہ اور ہر وہ چیز جو وہ کھو سکتے تھے، تباہ ہو چکی ہے۔
انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس انتباہ کو بھی معمولی قرار دے کر مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی افواج کا داخلہ حملہ آوروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔
امریکی صدر نے ایران میں قیادت کی تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہاں جا کر ہر چیز کی جلد صفائی کر دیں۔ ہم ایسا کوئی شخص نہیں چاہتے جو دوبارہ تعمیر میں 10 سال لگا دے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ میرے ذہن میں نئی قیادت کے لیے کچھ نام ہیں، تاہم انہوں نے کسی کا نام لینے سے گریز کیا، دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے تصدیق کی ہے کہ موجودہ آپریشن کے منصوبے میں زمینی افواج شامل نہیں ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے بتایا کہ امریکا ایرانی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے اور اب تک 2,000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ تنازع میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی میتوں کی واپسی کے موقع پر ان کے خاندانوں کے ساتھ اظہارِ تعزیت کے لیے تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


