site
stats
عالمی خبریں

غیر قانونی تارکین کو پناہ دینے والے شہروں پر حکم نامہ غیر قانونی قرار

سین فرانسیسکو: غیر قانونی امیگرینٹس کو پناہ دینے والے شہروں کو سزا دینےسے متعلق حکم نامہ غیر قانونی قرار دیدیا گیا۔

سین فرانسیسکو کی عدالت نے ٹرمپ کے غیر قانونی تارکین کو پناہ دینے والے شہروں کو وفاق کی جانب سے فنڈنگ روکنے سے متعلق حکم نامہ غیر قانونی قرار دیدیا، عدالتی فیصلے کا اطلاق پورے ملک پر ہو گا۔

ٹرمپ نے ان شہروں کے فنڈز روکنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا جو امیگرشن کے نئے حکم پر عمل نہیں کررہے تھے، ان شہروں اوراضلاع میں سانتا کلارا،سان ہوزے اور سلی کون ویلی کی کمیونیٹیز شامل ہیں، جہاں غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد زیادہ ہے اوران کی شہری حکومتوں کیجانب سے مدد کی جاتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق محکمہ انصاف فیصلے کو چیلنج کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو سہولتیں فراہم کرنے والے شہر اپنے ان اقدامات کی وجہ سے امریکی لوگوں اور خود ہماری جمہوریہ کے ڈھانچے کو بے پناہ نقصان پہنچاتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی اٹارنی جیف سیشنز نے غیر قانونی تارکین وطن کو سہولیات فراہم کرنے والے دس شہروں کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ یہ تصدیق کریں کہ وہ امیگریشن قوانین کی پاسداری کر رہے ہیں۔ ان کے پاس تیس جون تک جواب دینے کی مہلت ہے۔


مزید پڑھیں : ڈونلڈٹرمپ کاسفری پابندی سے متعلق نیاحکم نامہ معطل


یاد رہے کہ خیال رہےکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ کے آغاز پر اس نئے صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے مطابق چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر 90 دن کے لیے پابندی لگا دی گئی تھی۔

نئے حکم نامے کے مطابق ایران، لیبیا، شام، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہریوں کی امریکہ داخلے پر 90 روز کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ جنوری میں بھی سفری پابندیوں سے متعلق جاری کیے گئے ایک حکم نامے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے دیکھنے میں آئے تھےاس حکم نامے کو فیڈرل کورٹ نے فروری میں معطل قراردے دیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top