فلوریڈا(15 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ بندی کے لیے مذاکرات پر تیار ہے، تاہم وہ خود ابھی کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک طویل ٹیلی فونک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ ایران ڈیل چاہتا ہے، لیکن ایران ابھی تک ہماری شرائط پر ڈیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔
صدر ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران ایران کے نئے سپریم لیڈر کی زندگی کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں، کوئی مجتبیٰ خامنہ ای کو منظر عام پر بھی نہیں لاسکتا، میں نے سنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ نہیں ہیں، اگر وہ زندہ ہیں تو اسے اپنے ملک کے لیے کچھ بہتر کرنا چاہیتے ہیں تو سرینڈر کریں، ان کی موت سے متعلق بہت افواہیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز ایرانی جزیرے ‘خارگ’ پر امریکی حملوں نے وہاں کی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، اور ضرورت پڑنے پر مزید حملے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے میزائل اور ڈرون بنانے کی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر ختم کر دیا ہے اور اگلے دو دنوں میں اسے جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا۔
عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس اہم بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے چین، فرانس، جاپان اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ ترتیب دے رہے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ کئی ممالک اس علاقے میں اپنے جنگی جہاز بھیجنے پر آمادہ ہو گئے ہیں تاکہ تیل کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
یوکرین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ روسی صدر پیوٹن کے مقابلے میں زیلنسکی کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران میں مشترکہ فوجی کارروائی کو دو ہفتے گزر چکے ہیں، جس کے دوران 13 امریکی فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید ہونیوالوں کی تعداد ہزاروں سے زیادرہ ہے جس میں بچے بھی شامل ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


