واشنگٹن(16 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مرکز، جزیرہ خارک پر دوبارہ حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارک پر مزید حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ‘محض تفریح کے لیے’ وہاں دوبارہ بمباری کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ معاہدے کی شرائط ابھی اس معیار کی نہیں ہیں کہ ان پر دستخط کیے جائیں، اگرچہ ایرانی حکومت معاہدہ کرنے کی خواہش مند ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں نے جزیرہ خارک کے بڑے حصے کو پہلے ہی مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، تاہم انہوں نے توانائی کی مرکزی لائنوں کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا کیونکہ ان کی تعمیرِ نو میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
30 منٹ کے طویل ٹیلیفونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ ‘کیا وہ زندہ بھی ہیں؟’۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ ایران نے وہاں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں یا نہیں، لیکن امریکا اس گزرگاہ کو صاف کرنے کے لیے ‘بھرپور آپریشن’ کرے گا اور توقع ہے کہ دیگر متاثرہ ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنی ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ امریکا نے ایران کو عسکری اور اقتصادی طور پر مکمل طور پر کچل دیا ہے، لیکن اب دنیا کے ان ممالک کو جو اس راستے سے تیل حاصل کرتے ہیں، اس گزرگاہ کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی، امریکا اس سلسلے میں ان کی بھرپور مدد کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے اس بات پر حیرت کا اظہار بھی کیا کہ ایران نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک پر بلاوجہ بمباری کی گئی جو کہ اس پوری جنگ کے دوران ان کے لیے سب سے بڑا سرپرائز تھا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور جنگ کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں جس سے امریکا سمیت دنیا بھر میں ایندھن مہنگا ہو گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


