ہفتہ, اگست 8, 2026
اشتہار

پرجوش ٹرمپ وینزویلا کے تیل میں 100 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے لیے بڑے پلیئرز کو آمادہ نہ کر سکے

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (10 جنوری 2026): وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنے کے بعد ملکی معاملات امریکی اختیار میں لانے کا اعلان کرنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے تیل میں 100 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے لیے بڑے پلیئرز کو آمادہ نہ کر سکے۔

ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل کے لیے 100 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے، لیکن ایکسون کے سربراہ نے اس ملک کو ’ناقابلِ سرمایہ کاری‘ قرار دے دیا ہے، بی بی سی کے مطابق امریکی صدر نے وینزویلا کی تیل کی صنعت میں کم از کم 100 ارب ڈالر (75 ارب پاؤنڈ) کی سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران انھیں اُس وقت سردمہری کا سامنا کرنا پڑا، جب ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا کہ اس وقت یہ جنوبی امریکی ملک ’’سرمایہ کاری کے قابل نہیں‘‘ ہے۔

اجلاس میں شریک امریکا کی بڑی تیل کمپنیوں کے سربراہان نے اس بات کو تسلیم کیا کہ وسیع توانائی ذخائر رکھنے والے وینزویلا نے ایک پرکشش موقع ضرور پیدا کیا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس خطے کو سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ضروری ہوں گی۔ اس لیے انھوں نے فوری طور پر کسی بھی بڑے مالی عزم کا اعلان نہیں کیا۔

ٹرمپ نے چین اور روس کو وینزویلا تیل خریدنے کی ’’پیشکش‘‘ کر دی

جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا ’’اس سارے عمل سے امریکا کو جو فائدہ ہوگا، ان میں توانائی کی قیمتوں میں مزید کمی بھی شامل ہے۔‘‘ تاہم اجلاس میں موجود تیل کمپنیوں کے سربراہان نے محتاط رویہ اختیار کیا۔ ایکسون موبل کے چیف ایگزیکٹو ڈیرن ووڈز نے کہا ’’ہمارے اثاثے وہاں دو مرتبہ ضبط کیے جا چکے ہیں، اس لیے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تیسری مرتبہ واپس جانا تب ہی ممکن ہوگا جب وہاں نہایت بڑی تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا ’’آج کے حالات میں یہ ملک سرمایہ کاری کے قابل نہیں ہے۔‘‘ خیال رہے کہ بین الاقوامی تیل کمپنیوں کے ساتھ وینزویلا کا تعلق اُس وقت سے پیچیدہ رہا ہے جب ایک صدی سے زائد عرصہ قبل اس کی سرزمین میں تیل دریافت ہوا تھا۔ شیورون اِس وقت واحد بڑی امریکی تیل کمپنی ہے جو اب بھی وہاں کام کر رہی ہے۔ دیگر ممالک کی چند کمپنیاں بھی سرگرم ہیں، جن میں اسپین کی ریپسول اور اٹلی کی اینی شامل ہیں، اور دونوں کمپنیوں کے نمائندے وائٹ ہاؤس کے اجلاس میں موجود تھے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ فیصلہ کرے گی کہ کن کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ انھوں نے کہا ’’آپ براہِ راست ہم سے معاملہ کریں گے۔ آپ وینزویلا سے بالکل بھی معاملہ نہیں کریں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ آپ وینزویلا سے کوئی لین دین کریں۔‘‘

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں