The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ کا سیاسی نشان نظرِ آتش کرنے والی سیاہ فام لڑکیاں گرفتار

میری لینڈ: امریکہ میں ٹرمپ کا سیاسی نشان نظرآتش کرنے والی دو سیاہ فام لڑکیاں گرفتار کرلی گئیں‘ ممکنہ طور پر 33 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی شہر میری لینڈ کے علاقے پرنسز آنے میں جوائے شیفورڈ اور ڈی آسیا پیری نامی 19 سالہ لڑکیوں کو نفرت پھیلانے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے نگرانی کے لیے لگائے گئے کیمروں کی مدد سے پہلے پیری کو گرفتار کیا جس کے بعد دوسرے دن شیفورڈ نے از خود گرفتاری دے دی۔

کہا جارہا ہے کہ لڑکیوں نے پہلے سیاسی نشان کو اتارنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہونے پر گاڑی میں سے لائٹر نکال کر اسے نظر آتش کردیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق لڑکیوں پر املاک کو نقصان پہنچانے اور نفرت پر مبنی اقدامات کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں انہیں زیادہ سے زیادہ 33 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ میں جان بوجھ کر کسی سیاسی جماعت‘ مذہب‘ عقیدے یا کسی بھی مکتبِ فکر کے نشان کو نظرِ آتش کرنا قابلِ تعزیر جرم ہے۔

خلا میں احتجاج

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ ان کی صدارتی مہم کے زمانے میں ہی شروع ہوگیا تھا تاہم کچھ دن قبل احتجاج کا دائرہ زمین کی وسعتوں سے باہر نکل کر خلا تک پھیل گیا ہے

آٹونومس اسپیس ایجنسی نیٹ ورک (اسان) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف خلا میں بھیجی گئی احتجاجی تختی کی تصویر اور ویڈیو جاری کی تھی۔

اس احتجاج کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے پہلے صدر بن گئے ہیں، جن کے خلاف زمین کے علاوہ بھی کسی دوسری جگہ احتجاج کیا گیا ہے۔

مسلم خاتون مذہبی نفرت کا نشانہ بن گئی

امریکی ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی میں ایک افسوس ناک حادثہ پیش آیا جہاں کسی شدت پسند نے اسکارف پہنے پر مسلم خاتون کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق یہ دل دہلا دینے والا سانحہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ خاتون فجر کی نماز ادا کرکے پیدل اپنے گھر جارہی تھیں۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خاتون نے امریکی میڈیای کو دیے انٹرویومیں کہا ہے کہ ’’ وہ گھر جارہی تھیں جب یہ سانحہ پیش آیا‘ ایک گاڑی آکر رکی اور اس میں سے اترنے والے شخص نے مجھے روکا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں