The news is by your side.

Advertisement

میلانیا کے آبائی ملک سلووینا میں ٹرمپ کا مجسمہ تخلیق

مجسمے کی تخلیق کا مقصد شخصی سیاست پر تنقید ہے، ٹومز شلیگل

واشنگٹن : شخصی سیاست پر تبصرہ کرنے کی غرض سے میلانیا کے آبائی ملک سلووینا کے شہری نے لکڑی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 26 فٹ بلند مجمسمہ تیار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سلووینین فنکار نے دنیا کی سپر پاور کہلائی جانے والی مملکت امریکا کے صدر کابلیو رنگ کا مجسمہ ان کے اکثر زیب تن کیے جانے والے لباس کو دیکھ کر تیار کیا ہے، جسے میلانیا کے آبائی ملک سلووینا کے علاقے سیونیکا میں نصب کیاگیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فنکار نے 26 فٹ اونچا مجسمہ مکمل طور پر لکڑی کی مدد سے تیار کرکے ایک نجی زمین پر لگایا گیا ہے جس کا ایک ہاتھ (مکّے) کی صورت میں ہوا میں بلند ہے۔

مجسمہ تیار کرنے والے فنکار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میں شخصی سیاست پر تبصرہ کرنا چاہتا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سلووینا کے شہر سیونیکا میں ہی ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا کا مجسمہ بھی نصب کیا جاچکا ہے، جسے ایک بڑے درخت کو تراش پر مجمسے کی صورت میں ڈھالا گیا تھا، برلن نژاد امریکی فنکار نے خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ کا آسمانی رنگ کا مجسمہ ان کے 2017 میں زیب تن کیے گئے لباس کو دیکھ کر تیار کیا ہے۔

میلانیا ٹرمپ کے مجسمے کو دیکھ کر کچھ مقامی افراد کی جانب سے ناپسنددگی کا اظہار کرتے ہوئے امریکا کی خاتون اوّ کے مجسمے کو مشہور کارٹون اسمرفسٹی سے تشبیہ دیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا مجسمہ دارالحکومت لیوبلیانا سے 30 کلومیٹر دور شمال مشرق میں واقع گاؤں سیلاپریکام نیکو میں تخلیق کیا گیا ہے۔

مجمسے کے خالق ٹومز شلیگل کا کہنا ہے کہ ’جمہوریت کیا ہے ک؟ہم لوگوں کی آنکھیں کھولنا چاہتے ہیں کہ آخر یہ دنیا کہاں جارہی ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاست شخصیات کے گرد گھوم رہی ہے ،آپ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو دیکھ لیں، ٹرمپ کو دیکھیں ہمارے صدر اور ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کو دیکھ لیں‘۔

مجسمے کے خالق کا کہنا تھا کہ مجسمے میں چہرے کے تاثرات پہلے خوفناک بنائے تھے تاہم ہفتے کے اختتام پر تاثرات کو دوستانہ انداز میں ڈھال دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ کچھ ناقدین نے ٹرمپ کے مجسمے کو فقط لکڑی کا ضیاء قرار دیتے ہوئے کہا کہ فنکار کو یہ نہیں بنانا چاہیے تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں