جمعہ, مارچ 13, 2026
اشتہار

ٹرمپ کی حماس کو سنگین دھمکی

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (22 اکتوبر 2025): غزہ میں جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی کوششوں کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو سنگین دھمکی دی ہے۔

روئٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ حماس اسرائیل جنگ کے خاتمے کو مستقل شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اور منگل کے روز امریکا نے حماس پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے کہ وہ غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے میں ہتھیار ڈال دے۔

اسرائیل کے دورے پر موجود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ جنگ بندی کا منصوبہ توقع سے بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، تاہم انھوں نے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کو خبردار کیا کہ اگر اس نے تعاون نہ کیا تو اسے ’’صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔‘‘

یہ دھمکی ٹرمپ کی طرف سے دی گئی اُس صبح کی دھمکی کی بازگشت تھی جس میں انھوں نے ’’تیز، شدید اور بے رحم طاقت‘‘ کے استعمال کی بات کی تھی۔ خیال رہے کہ جنگ بندی کے 11 روز قبل نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل اور حماس دونوں ایک دوسرے پر بارہا اس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا چکے ہیں۔

نیتن یاہو غزہ امن معاہدے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں، نیویارک ٹائمز کا انکشاف

اس دوران وقفے وقفے سے پرتشدد جھڑپیں ہوئیں، یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی، امداد کی فراہمی اور سرحدوں کی بندش جیسے معاملات پر تنقید سامنے آئی ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 87 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ جنوبی غزہ میں 2 اسرائیلی فوجی بھی ہفتے کے اختتام پر مارے گئے۔

منگل کو ترک حکومت کے حکام سے ملاقات میں حماس کے وفد نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہے، باوجود اس کے کہ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

واضح رہے کہ موجودہ جنگ بندی پہلے ہی نازک صورت حال سے دوچار ہے، ایسے میں امریکا اور ثالثی کرنے والے ممالک مصر، قطر اور ترکی اب جنگ بندی کے زیادہ پیچیدہ دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں دونوں فریقوں سے ایسے اقدامات کی توقع ہے جن کی وجہ سے پہلے بھی امن کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

ٹرمپ کے 20 نکاتی جنگ بندی منصوبے میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ شامل ہے، جس پر حماس اب تک رضامند نہیں ہوئی، جب کہ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی غزہ سے واپسی اور فلسطینی ریاست کی طرف پیش رفت بھی شامل ہے۔ نائب صدر وینس، جو بدھ کو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے، نے جنگ بندی کے حوالے سے امید ظاہر کی، اور یہ بھی کہا کہ ممکن ہے مستقبل میں مزید خلیجی ممالک اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے خواہش مند ہوں۔

تاہم، انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام یرغمالیوں کی لاشوں کی فوری واپسی، جو اسرائیل کا ایک بڑا مطالبہ ہے، فی الحال ممکن نہیں، انھوں نے کہا کہ جنگ بندی منصوبے پر مکمل عمل درآمد ’’انتہائی محنت طلب اور بہت طویل عمل‘‘ ہو گا۔

دوسری طرف وینس کے سخت بیان کہ اگر حماس نے تعاون نہ کیا، تو جیسا کہ امریکی صدر کہہ چکے ہیں، حماس کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا، پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے اس قسم کی تشدد آمیز دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں