واشنگٹن (15 اپریل 2026) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سال کے دوران ڈیلیوری ویمن کو 11 ہزار ڈالر ٹپ دے ڈالی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈیلیوری ویمن شارون سیمنز جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں کھانا پہنچاتی ہیں، انہوں نے ٹرمپ سے ایک سال کے دوران تقریباً 11 ہزار ڈالر (پاکستانی تقریباً 30 لاکھ روپے) ٹپ کے طور پر حاصل کیے۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ ڈیلیوی ویمن شارون سیمنز نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی، جس کے بعد انہوں نے ایک سال کے دوران 11 ہزار ڈالر ٹپ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹپ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں نے ان کی زندگی بدل دی ہے۔
شارون سیمنز نے کہا کہ ٹپ سے ملنے والی رقم سے انہوں نے اپنے شوہر کے کینسر کے علاج کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ دیگر ضروریات زندگی کو پورا کیا۔
سیمنز نے مزید کہا کہ وہ اوول آفس کے ماحول سے بہت متاثر ہوئیں اور براہ راست ملاقات کے بعد اپنے تاثرات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو "بہت مہربان” قرار دیا۔
سیمنز جب کھانے کا آرڈر ڈیلیور کرنے وائٹ ہاؤس گئیں تو ٹرمپ خود ہیم برگر کے دو بیگ وصول کرنے باہر آئے۔ بظاہر اس کا مقصد ٹپ پر ٹیکس ختم کرنے کی اپنی پالیسی کی تشہیر کرنا تھا لیکن سیمنز ان کے اس اقدام سے بہت متاثر ہوئیں۔
Hemos hablado brevemente con la mujer que le ha llevado el McDonald’s a Trump. Sharon Simmons nos dice que la eliminación de Trump de los impuestos sobre las propinas le ha cambiado la vida: el año pasado recibió 11.000 dólares en propinas y dice que ese ahorro le ha ayudado a… pic.twitter.com/U9iED2rMJ9
— David Alandete (@alandete) April 13, 2026
آرڈر کی فراہمی کے دوران سیمنز نے صدر سے مخاطب ہو کر کہا کہ "جناب صدر، میرے پاس آپ کے لیے ایک آرڈر ہے” جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزاحاً جواب دیا: "ایسا نہیں لگ رہا کہ یہ کوئی پہلے سے تیار شدہ منظر ہے، ہے نا؟”
واضح رہے کہ ریاست آرکنساس سے تعلق رکھنے والی سیمنز دس پوتوں پوتیوں کی دادی ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ انہیں اپنی پالیسی کے دفاع کے لیے ایک ماڈل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



