ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والا امریکا سے کاروبار نہیں کرسکے گا، ٹرمپ
The news is by your side.

Advertisement

ایران کے ساتھ تجارت کرنے والا امریکا سے کاروبار نہیں کرسکے گا، ٹرمپ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والا امریکا سے کاروبار نہیں کرسکے گا، میں دنیا کے امن کے لئے بات کررہا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایران کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ایران پر پابندیاں باضابطہ طور پر نافذ ہوگئیں، یہ ایران پر اب تک لگائی گئی سب سے سخت پابندیاں ہیں، نومبرمیں ان پابندیوں کو مزید سخت کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کیساتھ کاروبار کرنے والا امریکا سے کاروبار نہیں کرسکے گا، میں دنیا کے امن کے لئے بات کررہا ہوں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کئے تھے، اقتصادی شعبے پر پابندیوں کا اطلاق آج ہوا، 5 نومبر کو توانائی اور تیل کی صنعتوں پر پابندیاں لگائی جائیں گی۔


مزید پڑھیں :  ڈونلڈ‌ ٹرمپ نے ایران پر اقتصادی پابندیاں‌ عائد کردیں


پابندیوں سے متعلق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پابندیوں کے بعد ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات سنگین نتائج کے ہوں گے، ایران کو رویہ تبدیل کرکے عالمی طاقتوں سے دوبارہ مذاکرات کرنا ہوں گے، نئے معاہدے میں ایرانی حکومت کی تمام منفی سرگرمیوں کا مکمل احاطہ ہوگا۔

یورپی یونین کی جانب ایران پر پانبدیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس قسم کی اقتصادی پابندیوں کے خلاف ہے، ایران کے ساتھ اپنا کاروبار جاری رکھیں گے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے ایران پر امریکی پابندیوں کے اعلان پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران پر پابندیاں لگا کر پچھتائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ پر کبھی اعتماد نہیں کرسکتے۔


مزید پڑھیں :   امریکا ایران پر پابندیاں لگا کر پچھتائے گا: حسن روحانی


واضح رہے کہ 2015 میں امریکی صدر بارک اوباما اور ایرانی حکومت کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا تھا جس کے سبب ایران پر سے معاشی پابندیاں ختم کردی گئی تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جوہری معاہدے کو رواں برس مئی میں غیر موثر کرتے ہوئے ایران پر اقتصادی پابندیوں کا نفاذ شروع کردیا گیا تھا، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے، ایران کے ساتھ معاہدہ یکطرفہ تھا، ایران نے معاہدے کے باوجود جوہری پروگرام جاری رکھا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں