The news is by your side.

Advertisement

ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا سے دشمنی میں بے قابو ہوگئے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کو نہایت بے احتیاطی سے استعمال کرتے ہیں اور ایک بار پھر انہوں نے ایسا ہی ایک احمقانہ ٹوئٹ کرتے ہوئے پھر سے خود کو تنقید کا نشانہ بنا لیا ہے۔

اس بار ٹرمپ نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں وہ ایک شخص پر بری طرح تشدد کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مار کھانے والے شخص کے سر کی جگہ امریکی نیوز چینل سی این این کا لوگو ہے۔

یہ ویڈیو دراصل سنہ 2007 کی ہے جب پروفیشنل ریسلنگ کمپنی ڈبلیو ڈبلیو ای نے اپنی تشہیر کے لیے اس وقت کے مشہور بزنس ٹائیکون ڈونلڈ ٹرمپ کو مدعو کیا تھا اور اسکرپٹ کے مطابق ٹرمپ نے آتے ہی کمپنی کے وائس چیئرمین ونس مکمون کو نیچے گرایا اور ان پر گھونسے برسا دیے۔

اب اسی ویڈیو کی ایڈیٹنگ کرنے کے بعد ڈبلیو ڈبلیو ای کے وائس چیئرمین کو سی این این کے لوگو سے تبدیل کردیا گیا۔

یہ ٹوئٹ دراصل ٹرمپ کی میڈیا سے دشمنی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ٹرمپ برملا میڈیا کو امریکی عوام کا دشمن اور گمراہ کن خبروں کا موجب قرار دیتے ہیں۔

مذکورہ ٹوئٹ میں بھی انہوں نے سی این این کو ایف این این یعنی فراڈ نیوز لکھا ہے۔

ٹرمپ کے ٹوئٹ کے بعد سی این این نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ ایک افسوسناک دن ہے جب امریکا کے صدر صحافیوں کے خلاف تشدد کی ترغیب دے رہے ہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ کے انسداد دہشت گردی اور وائٹ ہاؤس کے سیکیورٹی مشیر تھامس بسرٹ نے وضاحت دی ہے کہ ٹرمپ کا یہ ٹوئٹ کسی قسم کی کوئی دھمکی نہیں ہے۔

دوسری جانب صحافیوں کے حقوق کی عالمی تنظیم رپورٹرز کمیٹی فار فریڈم آف پریس نے بھی ٹرمپ کے اس ٹوئٹ کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کے بیان کے مطابق صدر کا یہ ٹوئٹ صحافیوں کے خلاف جسمانی تشدد کو بہترین عمل بنا کر پیش کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹوئٹ میں غلطی کے بعد ٹرمپ کا مذاق بن گیا

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم سے لے کر امریکا میں ٹرمپ کے ناپسندیدہ صحافتی اداروں اور ان کے صحافیوں کے خلاف بدتمیزیوں اور نامناسب رویوں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ تاحال جاری ہے۔

اس سے قبل بھی وائٹ ہاؤس میں متنازعہ سوالات پوچھنے پر کئی صحافیوں سے بدتمیزی کی گئی ہے اور بعض اوقات ان صحافیوں کو پریس بریفنگ سے باہر بھی نکال دیا جاتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں