The news is by your side.

Advertisement

سوشل میڈیا کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کا بڑا قدم

کیا آپ ٹوئٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر رہے ہیں، صحافی کا سوال. ایسا کچھ نہیں سوچا، ٹرمپ کا جواب، نینسی پلوسی کا ملاجلا رد عمل

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک ایگزیکٹو حکم نامے پر دستخط کر دیے، جس کے بعد سوشل میڈیا کو ضابطہ اخلاق کا پابند ہو گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایک صدارتی حکم نامے کے تحت سوشل میڈیا کو ضابطہ اخلاق کا پابند کر دیا گیا ہے، اب فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارمز کو کئی معاملات پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے گا۔

نئے حکم نامے کو پری وینٹنگ آن لائن سنسر شپ کا نام دیا گیا ہے، صدارتی حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل سوشل میڈیا کے خلاف شکایات پر ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیں گے۔

امریکی صدر نے اس سلسلے میں پریس کانفرنس میں کہا کہ آج کا دن شفافیت کے حوالے سے بڑا دن ہے، سوشل میڈیا کی طاقت پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا بہت ضروری ہے، ٹوئٹر کا فیکٹ چیک کا مقصد سیاسی ہے، آج کا ایگزیکٹو حکم نامہ اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ ہے، کیوں کہ ٹوئٹر نیوٹرل پلیٹ فارم نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سیکشن 230 کے تحت سوشل میڈیا کے لیے نیا ضابطہ اخلاق تشکیل دیا جا رہا ہے، سوشل میڈیا کی اجارہ داری کو ختم کریں گے، ٹیکس کا پیسا کسی سوشل میڈیا کمپنی کو نہیں جانے دیں گے، سوشل میڈیا چلانے والوں کے پاس بہت پیسا ہے، ان بڑی سوشل میڈیا کارپوریشنز کو اب امریکیوں کو تنگ نہیں کرنے دیں گے۔

پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے دل چسپ سوال کیا کہ کیا آپ اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر رہے ہیں، ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں سوچا، مجھے ٹوئٹر پر 186 ملین لوگ فالو کرتے ہیں، ٹوئٹر کو شٹ ڈاؤن کرنا پڑا تو قانونی طور پر کروں گا۔

پریس کانفرنس کے دوران چین بھارت تنازعے پر انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں مضبوط ممالک ہیں، میری بھارتی وزیر اعظم مودی سے بات ہوئی ہے، وہ اس وقت خوش نہیں، میں چین اور بھارت میں ثالثی کے لیے تیار ہوں، چین کے ساتھ تجارتی معاملے پر کل فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔

دریں اثنا، امریکی صدر کی سب سے بڑی ناقد اسپیکر نینسی پلوسی نے نئے حکم نامے پر ملا جلا رد عمل دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز حقائق کے نام پر مال بنا رہے ہیں۔ ادھر نئے حکم نامے پر فیس بک اور ٹوئٹر کی انتظامیہ میں بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں