Trump ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدے کو ختم کرنے کیلئے کانگریس کو 60 روز کا وقت دے دیا
The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدے کو ختم کرنے کیلئے کانگریس کو 60 روز کا وقت دے دیا

واشنگٹن : عالمی معاملات پر امریکی صدراور وزیر خارجہ کے اختلافات سامنے آگئے جبکہ ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدے کو ختم کرنے کیلئے کانگریس کو 60 روز کا وقت دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے درمیان عالمی معاملات پر اختلافات کی خبریں گرم ہیں، صدر براک اوباما کے دور میں منظور کئے گئے ایران جوہری معاہدے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے اس معاہدے کو ختم کرنے کیلئے کانگریس کو ساٹھ روز کا وقت دے دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران جوہری معاہدے پر عمل در آمد نہیں کر رہا اور پاسداران انقلاب کیخلاف پابندیوں سمیت ایران پر دیگر پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر کے بیانات کے بر عکس وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا کہنا ہے کہ ایران جوہری معاہدے پر عمل در آمد کر رہا ہے تاہم معاہدے میں موجود کچھ خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کی جانب سے جوہری معاہدے پر عمل در آمد کی تصدیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ معاملہ کانگریس کو بھجوا دیا ہے تاہم ریکس ٹلرسن کا کہنا تھا کہ جب تک کانگریس ایران کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہیں کرتی تب تک امریکہ اور دیگر ممالک کو اس معاہدے پر مکمل در آمد کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ معاہدے پر دستخط کرانے والے ممالک میں امریکہ کے علاوہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین شامل ہیں۔ ان پانچ ممالک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے ایران معاہدے سے منسلک رہنے کا اعلان کیا ہے۔


مزید پڑھیں  : ایران جوہری ڈیل سے دستبردار نہیں ہورہے، ٹرمپ


یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران جوہری ڈیل سے دستبردار نہیں ہورہے، پاسداران انقلاب پر سخت پابندیاں لگائیں گے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ تہران جوہری ڈیل پر روح کے مطابق عمل نہیں کررہا، معاہدہ کسی بھی وقت ختم کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ سال 2015 میں صدر براک اوباما کی حکومت میں ایران کے ساتھ یہ جوہری معاہدہ طے پایا تھا ، جس پر ایران سمیت چھ عالمی طاقتوں امریکہ، چین، روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے دستخط کئے تھے، جس کے تحت ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کر دی گئی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں