The news is by your side.

گولان کو اسرائیلی حصہ تسلیم کرنے کا متنازع فیصلہ، ٹرمپ کو عالمی مخالفت کا سامنا

نیویارک: گولان کو اسرائیلی حصہ تسلیم کرنے کے متنازع فیصلے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی سطح پر شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عرب لیگ پہلے ہی گولان سے متعلق ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے کو مسترد چکی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیوگوتریس نے بھی امریکی صدر کے فیصلے پر شدید تنقید کی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ انتونیوگوتریس کا تیونس میں عرب لیگ کے 30ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شام میں پائیدار امن کیلئے سیاسی راستے کی تلاش جاری رکھنی ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ تنازع کے حل کیلئے گولان سمیت شام کی علاقائی سالمیت کی ضمانت ضروری ہے، چاہتے ہیں خطے میں امن کی فضا بحال ہو۔

دوسری جانب یورپی یونین خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے بھی ٹرمپ کے متنازع فیصلے کی مخالفت کی، ان کا کہنا تھا کہ امریکا سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نظرانداز کررہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین گولان کی پہاڑیوں پراسرائیلی خود مختاری تسلیم نہیں کرتا، ٹرمپ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ گولان پر شام کی خودمختاری تسلیم نہ کیے جانے کو مسترد کرتے ہیں۔

گولان پہاڑیوں پر اقوام متحدہ کی قرارداد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، موگیرینی

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج 1967سے شامی علاقے گولان کی پہاڑیوں پر قابض ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ 52 سال بعد امریکا شام کی گولان ہائیٹس پراسرائیل کی مکمل بالادستی تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔بعد ازاں انہوں نے باقاعدہ طور پر متنازع فیصلے کو تحریری شکل بھی دے دی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں