The news is by your side.

Advertisement

‘ہمت ہے تو آگے بڑھو، میں ناقابل شکست ہوں’

کچھ عرصہ قبل اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے حقوق نسواں بل میں ’بیویوں پر ہلکا پھلکا تشدد‘ کی شق شامل کرنے کی سفارش کی گئی جس کے بعد پاکستانی خواتین نے اس سفارش کو نہایت سنجیدگی سے لیا اور مردوں کو ’دعوت‘ دینی شروع کردی کہ وہ ان پر ہلکا پھلکا تشدد کریں۔

پنجاب اسمبلی میں حقوق نسواں بل منظور ہونے کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل نے اس بل کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سفارشات پیش کی تھیں جس میں شامل شوہروں کی جانب سے بیویوں پر ہلکا پھلکا تشدد کرنے کی اجازت دینے کی شق سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنی۔

اس شق پر نہ صرف خواتین بلکہ عقل رکھنے والے مرد بھی چیخ اٹھے جن کا اصل مقصد کونسل کو یہ باور کروانا تھا کہ بیوی انسان ہے، کوئی ملکیت میں رکھا جانور نہیں جسے سدھارنے کے لیے اس قسم کی تجاویز پیش کی جائیں۔

مزید پڑھیں: عورت کے اندرونی کرب کے عکاس فن پارے

اس شق کے بعد ملک بھر میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا جس میں لاکھوں لوگوں نے اس شق کی مخالفت میں آواز اٹھائی جبکہ کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے اس کی حمایت کی۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین یو این وومین پاکستان نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ملک کی مشہور خواتین مردوں کو ’بیٹ کرنے‘ کا چیلنج دے رہی ہیں۔

بظاہر تو یوں لگ رہا ہے کہ یہ خواتین مردوں کو خود پر ہاتھ اٹھانے کا چیلنج دے رہی ہیں، لیکن غور سے دیکھا جائے تو یہ چیلنج دراصل اس کام کو کر دکھانے کا ہے جو ان خواتین نے سرانجام دیا۔

ویڈیو میں ایتھلیٹ نسیم حمید مردوں کو ’پیروں سے ہرانے‘ کا چیلنج دے رہی ہیں۔ نسیم حمید کو سنہ 2010 میں ڈھاکہ میں ہونے والی 100 میٹر کی ریس جیتنے پر ایشیا کی تیز ترین خاتون ہونے کا اعزاز ملا تھا۔

un-5

معروف گلوکارہ میشا شفیع مردوں کو اپنی آواز سے جبکہ معروف صحافی اور براڈ کاسٹر ثنا بچہ اپنے الفاظ سے شکست دینے کا چیلنج دے کر اس پہلو کی طرف توجہ دلوا رہی ہیں تشدد صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ زبان سے بھی ہوتا ہے۔

un-4

un-3

ثمینہ خیال بیگ کی دعوت ہے کہ مرد انہیں پہاڑوں کی چوٹیوں پر مات دے کر دکھائیں۔ ثمینہ بیگ پہلی پاکستانی اور کم عمر ترین مسلمان خاتون ہیں جو دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر چکی ہیں۔

یہی نہیں وہ دنیا کے ساتوں براعظموں کی بلند ترین چوٹیاں سر کرنے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں۔

un-2

ویڈیو میں ثروت گیلانی، مومنہ مستحسن اور آمنہ شیخ بھی شامل ہیں جو مردوں کو للکار رہی ہیں کہ اگر تم وہ کرسکتے ہو جو ہم نے کیا تو کر کے دکھاؤ۔

un-6

un-8

un-7

یہ ویڈیو دراصل اقوام متحدہ کی اس 16 روزہ مہم کے تناظر میں جاری کی گئی ہے جو دنیا بھر میں خواتین پر جنسی و جسمانی تشدد کے خاتمے اور اس کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیے چلائی جارہی ہے۔

اقوام متحدہ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کے ذریعہ نہ صرف خواتین پر مردوں کی جانب سے ذہنی و جسمانی تشدد کے خلاف آگاہی دی گئی بلکہ ان خواتین کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے شعبوں میں حیرت انگیز کمالات دکھائے اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں صنفی امتیاز کی غلط تشریح

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ہر 3 میں سے ایک عورت زندگی بھر میں کسی نہ کسی قسم کے جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ خواتین پر تشدد سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس تشدد کو ایک معمولی عمل سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین پر تشدد ان میں جسمانی، دماغی اور نفسیاتی بیماریوں کا سبب بنتا ہے جبکہ ان میں ایڈز کا شکار ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ خطرے کی زد میں وہ خواتین ہیں جو تنازعوں اور جنگ زدہ ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں صنفی تفریق خواتین کے طبی مسائل کی بڑی وجہ

ماہرین کے مطابق ان تنازعوں اور جنگوں کے خواتین پر ناقابل تلافی نقصانات پہنچتے ہیں اور وہ مردوں یا بچوں سے کہیں زیادہ جنسی و جسمانی تشدد اور زیادتیوں کا نشانہ بنتی ہیں۔

اقوام متحدہ پاکستان کی جاری کی گئی ویڈیو میں ایک حاملہ خاتون کو بھی دکھایا گیا ہے جو مردوں کو یہ بتانے کی کوشش ہے کہ ایک زندگی کو اس دنیا میں لانا سب سے زیادہ طاقت اور جرات کا کام ہے جس کا کوئی مرد تصور بھی نہیں کرسکتا۔

un-1

ویڈیو میں شامل تمام خواتین کی دعوت ہے کہ، ’اگر ہمت ہے تو آگے بڑھو، کیونکہ میں تمہیں بتانے کی منتظر ہوں کہ میں ناقابل شکست ہوں‘۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خواتین پر تشدد کا رجحان ایک ’وبائی‘ صورت اختیار کر رہا ہے اور دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں