The news is by your side.

Advertisement

کپڑے برآمد کرنے کی آڑمیں ادویات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

کراچی : کلکٹر کسٹمز ایکسپورٹ کراچی نے کپڑے بیرون ملک برآمد کرنے کی آڑ میں ممنوعہ ادویات کی اسمگلنگ کو کوشش ناکام بنادی، مذکورہ ادویات بڑی مہارت سے قیمتی کپڑوں میں لپیٹ کر متحدہ عرب امارات اسمگل کی جارہی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق ماڈل کسٹم کلکٹریٹ کراچی ایکسپورٹ نے انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل پر کارروائی کرتے ہوئے بیرون ملک اسمگل کی جانے والی 80لاکھ روپے مالیت کی ممنوعہ ادویات تحویل میں لے لیں، عملے نے میڈیا کے سامنے کپڑوں کے تھان کرکھول کھول کر ادویات نکالیں۔

کسٹم پولیس نے ایکسپورٹر اور سہولت کاروں سمیت 3افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ اس حوالے سے کلکٹر کسٹم ایکسپورٹ چوہدری محمد جاوید نے ہفتہ کو کسٹم ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ26اکتوبر2017کو فیصل آباد کے ایک تاجر کی گڈز ڈیکلریشن میگا انڈسٹری کے نام سے جواد انٹرنیشنل کلیئرنگ ایجنٹ چالان نمبر64نے فائل کی۔

جی ڈی میں گڈز ڈیکلریشن میں انوائس اور پیکنگ لسٹ میں 510 کاٹن کا وزن 14.92 میٹرک ٹن کپڑے کا کنسائنمنٹ ظاہر کیا گیا جو کہ پاکستان سے دبئی کی پورٹ جبل علی کے لیے ایکسپورٹ کیا جانا تھا۔

کسٹم کے عملے نے کنسائنمنٹ کو ریڈ مارک کرکے ایگزامن کیا تو انکشاف ہوا کہ کنسائنمنٹ میں کلیئرنگ ایجنٹ جواد انٹرنیشنل نے جیلانی کارگو سروسز کے ساتھ مل کر مس ڈیکلیئریشن کرتے ہوئے کپڑے کنسائنمنٹ کی آڑ میں زینکس ادویات کے20 ہزار پیکٹ جن کی مالیت 80لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے اسمگل کرنے کی کوشش کی۔

ماڈل کسٹم کلکٹریٹ نے ادویات اور14 ٹن سے زائد کا کپڑا ضبط کرکے میگا انڈسٹریز کے مالک عمیر، کلیئرنگ ایجنٹ جواد انٹرنیشنل اور جیلانی اسٹار ٹریڈنگ انٹرنیشنل سروسز کے نظام میانی کے خلاف مس ڈیکلیئریشن اور اسمگلنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں ۔

چوہدری محمد جاوید نے بتایا کہ زینکس کی گولیاں ذہنی سکون کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جس کی ایکسپورٹ کے لیے کسٹم ایکسپورٹ پالیسی کے تحت ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی شرائط پوری کرنا لازمی ہے، جس کی خلاف ورزی پر14 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کے لیے ماڈل کسٹم کلکٹریٹ میں تین نظام موجود ہیں، اچھی پروفائل رکھنے والے ایکسپورٹرز کا سامان گرین چینل کے ذریعہ کلیئر کیا جاتا ہے۔

یلو چینل کے ذریعہ کنسائنمنٹ کو اسکینر سے گزارا جاتا ہے اور پھر ایگزامنیشن کے بعد اس کو کلیئر کیا جاتا ہے، جبکہ ریڈ چینل پر آئے ہوئے کنسائنمنٹ کو 100فیصد ایگزامنیشن کیا جاتا ہے۔

چوہدری محمد جاوید کا کہنا تھا ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کی منظم اسمگلنگ کی وجہ سے پاکستان میں اس کی قلت بڑھ گئی ہے، پاکستان کسٹمز نے رواں سال ممنوعہ ادویہ برآمد کرنے کا پہلا کیس پکڑلیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں