اسلام آباد (26 فروری 2026): ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے مذاکرات کیلیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے بامقصد مذاکرات کیلیے حکومت کو مطالبات پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قائدین کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی حکومت سے تمام سیاسی فریقین اور عوام کو ساتھ ملا کر ٹھوس قومی حکمت عملی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس کے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق ٹی ٹی اے پی قائدین نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، ان کا ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے طبی معائنہ کروایا جائے، وکلا اور اہل خانہ تک رسائی پر پابندیاں فوری ختم کی جائیں، طبی رپورٹس اہل خانہ سے چھپانے پر شدید تشویش ہے، صحت کے ساتھ مجرمانہ غفلت سیاسی بحران کو سنگین بنا سکتی ہے۔
مزید مطالبہ کیا گیا کہ شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ سمیت تمام سیاسی اسیران کو فوری رہا کیا جائے۔ اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے رہنما صاحبزادہ حامد رضا کی صحت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں ملک بھر میں دہشتگردی میں اضافے پر تشویش اور قومی حکمت عملی بنانے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ سعودی عرب اور ترکیہ سمیت دوست ممالک سے سفارتی رابطوں پر زور دیا گیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ایران پر امریکی حملے کی دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرے۔
اجلاس میں قائدین نے کہا کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں شدید کمی پر تشویش ہے، معاشی بحران سے نمٹنے کیلیے حکومت کے پاس ٹھوس منصوبہ نہیں۔
اپوزیشن اتحاد نے گلف اسٹریم جیٹ کی خریداری پر تنقید کی جبکہ اعلان کیا کہ ماہرین کی مدد سے متبادل بجٹ پیش کریں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



