The news is by your side.

Advertisement

شام جنگ،ترک افواج نے عفرین کا کنڑول سنبھال لیا

 دمشق: ترک فوج نے اتحادیوں کے ہمراہ شام کے شمال مغربی صوبے عفرین میں کرد جنگجؤوں کو شکست دے کر کنٹرول سنبھال کرترکی کا پرچم لہرا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شام کے شمال مغربی حصّے میں گذشتہ آٹھ ہفتوں سے جنگ کے بعد ترک فوج نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ عفرین کا کنڑول حاصل کرکے اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے عفرین کا کنڑول کرد ملیشیا کے ہاتھ میں تھا، جو انہوں نے شامی افواج کی حمایت سے حاصل کیا تھا، لیکن اب شمال مغربی حصّے پر ترک افواج نے اپنا قبضہ جماکر ترکی پرچم بھی لہرادیا ہے۔

 ترکی نے شام کے علاقی عفرین میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کردی ہے تاہم عفرین کی ایک رہائشی خاتون رانیہ کا کہنا تھا ترکی کی جانب سے داغے جانے والے شیلوں نے گاڑیوں میں موجود عام شہروں کو نشانہ بنایا۔ ان کا مزید کہنا تھا’وہاں ہر جانب لاشیں ہی لاشیں تھیں‘۔

ترک افواج عفرین پر قبضہ کرنے کے بعد شہر میں لگا مجسمہ گرا رہے ہیں

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ترکی کے جمعے کی رات ہونے والے فضائی حملوں میں متعدد عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ فضائی حملوں میں ایک اسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ترک فضائیہ کی جانب سے جمعے کی رات اسپتال پر فضائی حملوں کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے

مصدقہ ذرائع کی اطلاعات کے مطابق شام کے شمال مغربی شہر عفرین سے ترک فضائی حملوں کے باعث 150،000 افراد گھر چھوڑ کر جاچکے ہیں۔

کردش جنگجؤ گروپ کے ترجمان ہادیہ یوسف کا کہنا تھا کہ کرد جنگجو اب بھی ترک فوج اور اس کے اتحادیوں سے لڑنے میں مصروف ہیں البتہ شہر کو عام لوگوں کے قتل عام کی وجہ سے خالی کروالیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کردوں کی کوشش جاری ہے اور کردش لوگ ہر حال میں اپنا دفاع کریں گے، عفرین کی لڑائی نے شام میں ہونے والی خانہ جنگی میں نیا باب کھول دیا ہے اور گذشتہ سات سال سے شامی جنگ میں غیر ملکی کردار کو واضح کردیا ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ عفرین کے ہسپتال میں 16 افراد ہلاک ہوئے، کردش ریڈ کریسنٹ کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’عفرین میں کام کرنے والا یہ واحد ہسپتال تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں