ترک عوام نےصدارتی نظام کےحق میں فیصلہ سنادیا Turkey People
The news is by your side.

Advertisement

ترک عوام نے صدارتی نظام کے حق میں فیصلہ سنا دیا

انقرہ: ترکی میں ہونے والے ریفرنڈم میں 52 فیصد عوام نے صدارتی نظام کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ترکی میں صدراتی نظام کو جاری رکھنے کے حوالے سے ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا جس میں عوام کی کثیر تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

اتوار کے روز ہونے والی رائے شماری میں اب تک کے نتائج کے مطابق 94 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے جس میں 52 فیصد افراد نے صدارتی نظام کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نتائج سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ترک عوام صدارتی نظام کے حق میں ہیں اور وہ اسی نظام کو فوقیت دیتے ہیں، 52 فیصد ترک عوام نے صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دیا۔

پڑھیں: ’’ صدر کے اختیارات میں توسیع‘ترک پارلیمنٹ نے منظوری دے دی ‘‘

یاد رہے گزشتہ برس ترکی میں فوج کے ذریعے صدارتی تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی تھی اور آرمی کے لوگ ٹینکوں پر بیٹھ کر سڑکوں پر نکل آئے تھے تاہم طیب اردگان کے ویڈیو پیغام کے بعد عوام نے مزاحمت کی اور بغاوت کو ناکام بنایا۔

بعد ازاں رواں سال جنوری میں ترک پارلیمنٹ نےصدر کے اختیارات بڑھانے سے متعلق نئے قانون کی منظوری دی تھی۔ ترک پارلمینٹ سے منظور ہونے والے نئے قانون پر مخالفین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس قانون کی مدد سے صدر اپنے اختیارات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، جبکہ اردگان کا کہنا تھاکہ نیا قانون امریکہ اور فرانس کےمماثل ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں