امریکا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ بنانے سے بازرہے، ترک صدر turk
The news is by your side.

Advertisement

امریکا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ بنانے سے بازرہے، ترک صدر

انقرہ : ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ امریکا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے سے باز نہ رہے وگرنہ نتائج کی ذمہ داری خود اسی پر لاگو ہو گی.

عرب میڈیا کے مطابق ترک صدر نے پارلیمنٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ بنائے جانے پر امریکا کو دوٹوک انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا قدم اُٹھایا گیا تو امریکا کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا اور ترکی اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کردے گا.

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ باور کرایا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کے معاملے پرسرخ لکیر عبور کرنے کی کوشش نہ کریں جو خود امریکا کے لیے سازگار نہیں ہوگا اور مسلم دنیا سے شدید ردعمل کا سامنا ہوگا چنانچہ ٹرمپ کسی بھی ایسی حرکت سے باز رہے.

صدر طیب اردگان نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانیت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا، کیا امریکا نے وہ تمام کام مکمل کرلیے ہیں جو اس کے کرنے کے لیے تھے یا صرف اب یہی ایک کام رہ گیا ہے.

ترک صدر نے کہا کہ اس معاملے پر او آئی سی کا اجلاس طلب کیا جانا چاہیئے اور مسلم امہ کو امریکا کی اس چال کے خلاف عملی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اسرائیل کو اس معاملے میں مزید پیش رفت سے روکا جاسکے.

خیال رہے امریکی حکام کی جانب سے آئندہ چند ہفتوں میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے سے متعلق تجاویز سامنے آئی تھیں جس پر اسلامی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جب کہ فلسطین کے صدر نے بھی اس پر سخت موقف اختیار کیا ہے.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں