The news is by your side.

Advertisement

روسی جہازوں کو روکنے کی اپیل پر ترکی کا یوکرین کو جواب

انقرہ: ترکی نے یوکرین کی اپیل پر کہا ہے کہ وہ روسی جنگی جہازوں کو بحیرۂ اسود تک رسائی نہیں روک سکتا۔

تفصیلات کے مطابق روسی جہازوں کو روکنے کی اپیل پر ترکی نے یوکرین کو جواب دے دیا، ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ عالمی معاہدے کی وجہ سے ترکی روسی جنگی جہازوں کو بحیرۂ اسود تک رسائی نہیں روک سکتا۔

ترکی کے وزیر خارجہ نے جمعہ کو کہا کہ بین الاقوامی معاہدے کی ایک شق جہازوں کو اپنے ہوم بَیس پر واپس جانے کی اجازت دیتا ہے، اس لیے ترکی روسی جنگی جہازوں کو اپنی آبنائے کے ذریعے بحیرۂ اسود تک پہنچنے سے نہیں روک سکتا۔

یوکرین نے ماسکو کی جانب سے جمعرات کو زمینی، فضائی اور سمندر سے بھرپور حملے کے بعد گزشتہ روز ترکی سے روسی جہازوں کو آبنائے ڈارڈینیلس اور باسفورس پر روکنے کی اپیل کی تھی، کیوں کہ روسی جنگی جہاز آبنائے ڈارڈینیلس اور باسفورس کے ذریعے بحیرۂ اسود جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی کے پاس 1936 کے مونٹریکس کنونشن کے تحت آبنائے پر کنٹرول حاصل ہے، اور وہ جنگ کے وقت یا خطرہ ہونے پر جنگی جہازوں کے گزرنے کو محدود کر سکتا ہے۔ تاہم، یوکرین کی درخواست نے نیٹو کے رکن (ترکی) کو مشکل میں ڈال دیا ہے، کیوں کہ وہ اپنے مغربی وعدوں اور روس کے ساتھ قریبی تعلقات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو قازقستان میں بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ میولوت چاوش اوغلو نے کہا تھا کہ ترکی کیف کی درخواست کا مطالعہ کر رہا ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ روس کو کنونشن کے تحت یہ حق حاصل ہے کہ وہ بحری جہاز اپنے ہوم بَیس واپس بھیجے، یعنی اس صورت میں بحیرہ اسود کے ذریعے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں