استنبول (29 نومبر 2025): ترکیہ کے قریب غیر قانونی تیل لے جانے والے 2 بحری جہازوں میں دھماکے ہوئے ہیں، دونوں جہازوں کو نقصان پہنچا تاہم عملے کے 45 افراد محفوظ رہے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق جمعہ کے روز ترکیے کے قریب بحیرہ اسود میں دو ٹینکروں میں دھماکے ہوئے ہیں جو روس کی شیڈو فلیٹ سے تعلق رکھتے ہیں، دھماکے کے بعد ٹینکرز میں آگ لگ گئی۔
جہاز روس کے نووروسییسک پورٹ جا رہے تھے، دونوں ٹینکرز ان بحری جہازوں کی فہرست میں شامل ہیں جن پر 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد عالمی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
بلیک سی میں گزشتہ برسوں کے دوران بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے متعدد واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں، اور بعض سرنگیں سمندر میں بہتی بھی ملی ہیں۔ باوجود اس واقعے کے باسفورس اسٹریٹ میں بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری رہی۔
پیوٹن کے دورہ بھارت سے کیا توقعات ہیں؟ سیکریٹری دفاع نے سچ بتا دیا
ترکی کی وزارت ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ 274 میٹر لمبا ٹینکر کائیروس مصر سے روس جاتے ہوئے بحیرہ اسود میں دھماکے کا شکار ہوا اور اس میں آگ لگ گئی، جس کے بعد دو تیز ریسکیو بوٹس، ایک ٹگ بوٹ، اور ایک ہنگامی رسپانس ویسل کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا اور جہاز میں موجود عملے کے 25 ارکان کو بچا لیا گیا۔
ترک حکام کے مطابق ایک اور ٹینکر ’ویرات‘ میں بھی مبینہ طور پر تقریباً 35 ناٹیکل میل دور بحیرہ اسود میں دھماکا ہوا، امدادی یونٹوں اور ایک تجارتی جہاز کو جائے وقوعہ پر بھیجا گیا، جہاز کے انجن کے کمرے میں بھاری دھوئیں کا پتا چلا لیکن جہاز میں موجود 20 اہلکار سلامت تھے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


