The news is by your side.

Advertisement

ترکی کا 50 ہزار پاکستانی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ

انقرہ: ترکی نے غیرقانونی طور پر ترکی میں مقیم 50 ہزار پاکستانیوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کے کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 50 ہزار پاکستانیوں کو داخلی استحکام کے لیے خطرہ قرار دے کر ملک بدر کردیا جائے گا، اجلاس میں ملکی سلامتی سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

ترک وزارت خارجہ نے ایک خط کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کردیا ہے کہ ترکی بہت جلد اپنے ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم 50 ہزار پاکستانیوں کو بے دخل کردے گا۔

ترک وزیر خارجہ نے پاکستان بھیجے گئے خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ ملک بھر کی جیلوں میں 50 ہزار سے زائد پاکستانی شہری قید ہیں جن کے پاس سفری دستاویزات موجود نہیں ہیں اور یہ غیرقانونی طور پر ترکی پہنچے تھے، کچھ کو عدالتوں نے سزا سنائی ہے۔

مزید پڑھیں: ترکی نہیں جانا چاہتے، پاکستان میں ہی رہنے کی اجازت دی جائے، ترک اساتذہ

خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قیدیوں کو اتنی بڑی تعداد میں جیلوں میں رکھنا ممکن نہیں رہا اور ان کی وجہ سے انتظامی امور کی انجام دہی میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے اس لیے حکومت ان افراد کو ڈی پورٹ کرے گی۔

تارکین وطن کی بے دخلی کے معاملے پر فی الوقت پاکستانی حکومت کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 10 فروری کو بھی ترکی سے 60 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا تھا جنہیں ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی ایف آئی اے نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں